Friday, September 10, 2010 
آرٹیکلز 
بھارت نے امداد دینے کے ایک دن بعد ہی پانی چھوڑ دیا
امداد کیلئے آنیوالی کھجوریں لاہور میں بکنے لگیں
فیس بُک اور غازی علم الدین
حسّاس علاقوں میں اب بھی جگہ جگہ مورچے قائم ہیں
لاہور لاہور اے - - - - منصور مہدی
مزید آرٹیکلز ۔ ۔ ۔












ہم وفادار نہیں تو بھی تو - - - - - جرگہ
 
 
      امریکی عوام جس قدر سیدھے سادے اور فرینڈلی ہیں ‘ اسی قدر ان کی اسٹیبلشمنٹ وحشی اور ظالم ہے۔ افغانستان کے کہساروں یا پھر عراق کے ریگزاروں میں جو لوگ عملی میدان میں ان کو چیلنج کرتے ہیں‘ اس کی کتاب میں ان کیلئے کوئی رعایت نہیں لیکن سیاست اور صحافت کے میدان میں اپنے خلاف نعرہ بازی اور فتویٰ بازی کا امریکی اوراس کے مغربی اتحادی ذرہ بھر برا نہیں مناتے۔
      
       آج تک پاکستان میں امریکیوں نے اپنے خلاف لکھنے والے کسی اخبار نویس یا اپنے خلاف بولنے والے کسی سیاسی رہنما کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ جو صحافی ان کے خلاف جس قدر زیادہ لکھتا اور بولتا ہے ‘ وہ اس قدر ان پر مہربان ہوجاتے ہیں اور جو سیاستدان جس قدر زیادہ ان کے خلاف ریلیاں نکالتا ‘ وہ اس قدر زیادہ ان کے ساتھ درپردہ روابط استوار کرنے لگ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں پاکستانی میڈیا اور بالخصوص اردو میڈیا میں مغربی ممالک پر تبرہ بازی کو بہادری سمجھتا ہوں اور نہ مجھے اس کا کوئی فائدہ نظر آتا ہے۔
      
       ہمارے ملک کے عوام کی واضح اکثریت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نہ صرف خلاف ہے بلکہ ان سے شدید نفرت بھی کرتا ہے۔ امریکہ کے خلاف رائے عامہ جس قدر پاکستان میں ہموار ہے ‘ کسی اور ملک میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اب پاکستانی عوام کے جذبات کو بھڑکانے کی بجائے‘ انہیں ترقی کا صحیح اور غیرجذباتی راستہ دکھاکر‘ علمی‘ نظریاتی ‘ معاشی اور عسکری میدانوں میں مغربی استعمار کے مقابلے کے قابل بنانا ہے ۔
      
       تبھی تو میں اردو میڈیا میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نصیحتیں کرنے کی بجائے اپنی قوم اور اس کے رہنماؤں کو نصیحتیں کرنے کا قائل ہوں اور تبھی تو میں گذارش کرتا رہتا ہوں کہ مغربی دنیا کی خامیوں اور غلطیوں کے تذکرے کی بجائے ہمیں اپنی غلطیوں ‘ خامیوں اور بلنڈرز کا ذکرکرنا چاہئے۔
      
       اہم ممالک کے سفارتخانے ‘ اہم کالم نگاروں کے کالم ترجمے اور تبصرے کے ساتھ اپنے ممالک کے متعلقہ اداروں تک ضرور پہنچاتے ہیں لیکن بہ ہر حال صبح اٹھ کر امریکی صدر اوبامہ اور نہ ہی برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون ‘ اردو اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں اور نہ اسرائیلی یا بھارتی وزیراعظم پاکستان کے اردو ٹی وی چینل دیکھ کر اپنے لئے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
      
       افواج پاکستان کے سربراہ ہوں‘ خفیہ ایجنسیوں کے ذمہ دار ان ہوں یا پھر کورکمانڈز ہوں‘ صدر ہوں‘ وزیراعظم یا وزراء اعلیٰ‘ سیاسی و مذہبی رہنما ہوں‘ طالبان ہوں یا پھر قوم پرست عسکریت پسند‘ یہ سب انہی اخبارات کو پڑھتے اور انہی ٹاک شوز سے حظ اٹھاتے ہیں ‘ اس لئے ہماری تنقید ‘ نصیحت اور التجاؤں کا رخ بھی ان کی طرف ہونا چاہئیے ۔
      
       تاہم وکی لیکس کی رپورٹس کے تناظر میں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے بعد اب جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی تبرہ بازی کے لئے سامنے آگئے ہیں تو تصویر کا دوسرا رخ دکھانا ضروری ہوگیا ہے لیکن آج بھی میرے براہ راست مخاطب وہ نہیں بلکہ پاکستانی حکمران اور پالیسی ساز ہیں اور ان سے درخواست ہے کہ وہ امریکی‘ برطانوی اور دیگر مغربی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں، مذاکروں اور پریس کانفرنسز میں ذرا تصویر کا یہ رخ بھی سامنے لائیں تاکہ امریکہ‘ برطانیہ اور ان کے دیگر ہمنواؤں پر واضح ہو کہ اگر ”ہم وفادار نہیں “ تو ”تو بھی تو دلدار نہیں“۔
      
      
       اوبامہ اور وزیراعظم کیمرون یا پھر ان کے دیگر ہمنواؤں سے کہہ دیا جائے کہ کیا افغانستان کو مکمل طور پر سنبھالے بغیر عراق میں جانے کا فیصلہ (جس نے افغانستان میں صورت حال کو یکسر تبدیل کردیا ) ہم نے کیا یا آپ لوگوں نے ؟۔ طالبان اور القاعدہ کی خلاف بھرپور تعاون کے باوجود ایران کو ”برائی کے محور“ میں شمار کرنے اور اسے افغانستان میں طالبان کے سپورٹ پر مجبور کرنے کی پالیسی ہم نے اپنائی یہ آپ لوگوں نے؟۔
      
       بون کانفرنس کے نتیجے میں حامد کرزئی کو وارلارڈز اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھوں یرغمال کروانا ہماری خواہش تھی یا آپ لوگوں کی ؟۔ حامد کررزئی کو بروقت طالبان کے ساتھ مصالحت کرانے کی اجازت ہم نے نہیں دی یا آپ لوگوں نے؟۔ افغانستان کو پڑوسی اور علاقائی طاقتوں کی پراکسی وارز کے میدان میں ہم نے تبدیل کیا یا آپ لوگوں نے ؟۔ وہ ہم تھے یا آپ ‘ جن کے اینٹیلی جنس اداروں نے 2002ء میں سینکیانک صوبے سے چینی حکومت کے مخالف عناصر کو کابل میں جمع کرنا شروع کرکے افغانستان کے حوالے سے چین کو عدم تعاون پر مجبور کرنے کی کوشش کی؟۔
      
       وہ ہم تھے یا آپ جنہوں نے افغان صدر کو اپنے چند افسران تربیت کے لئے ماسکو بھیجنے کی اجازت نہ دے کر روس کو ناراض کیا؟۔ وہ ہم تھے یا آپ جنہوں نے افغانستان کے اوپر اینٹیلی جنس کے ایسے عہدیداروں کو آٹھ سال تک مسلط کئے رکھا ‘ جوخود افغان صدر کے بھی مخالف تھے؟ ۔
      
       ان سے کہہ دیجئے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ حامد کرزئی یا کوئی اور افغان ‘ ایران کے ساتھ دشمنی چاہتا ہے نہ اسے ایران سے کوئی تکلیف ہے ۔ یہ آپ لوگ ہی تھے جنہوں نے” جنداللہ“ کے ٹریننگ کیمپ افغانستان میں قائم کررکھے ہیں اور جنہوں نے عبدالمالک ریگی کو کابل میں رکھ کر افغان پاسپورٹ عنایت کررکھا تھا۔ ان پر اچھی طرح واضح کر دیجئے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ حامد کرزئی یا کسی اور افغان کو گوادر کی بندرگاہ سے کوئی تکلیف ہے اور نہ چین کی سرمایہ کاری سے ۔
      
       گوادر کی تعمیر سے افغانستان کو بندرعباس اور کراچی کے علاوہ تجارت کا ایک اور سستا روٹ میسر آئے گا جبکہ بلوچستان کی ترقی سے افغانستان میں بھی ترقی کے نئے در وا ہوں گے اور یہ آپ ہی ہوں جنہیں گوادر میں چین کی سرمایہ کاری اور بلوچستان کی ترقی گوارا نہیں۔ آپ لوگوں نے ہی ہندوستان کو بلوچ علیحدگی پسندوں کی مدد کی اجازت دے رکھی ہے۔
      
       آپ ہی نے براہمداغ بگٹی کو ہندوستانی پاسپورٹ دلوادیا ہے ۔ آپ ہی نے ان کے سرپرستوں کو اپنے ہاں بٹھارکھا ہے اور جس روز (دیوڈ کیمرون) پاکستان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کررہے تھے ‘ اس سے صرف پانچ روز قبل آپ لوگوں نے پاکستان سے ناراض ایک بلوچ سردار کو برطانیہ کی شہریت عنایت کردی۔
      
       ان سے کہہ دیجئے کہ کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان میں جرمنی کی پالیسی کچھ اور ‘ برطانیہ کی کچھ ‘ فرانس کی کچھ اور ‘ اٹلی کی کچھ اور ترکی کی کچھ اور جبکہ امریکہ کی کچھ اور ہے ۔ جرمن اور ترک لڑائی میں حصہ نہیں لیتے۔ امریکی برطانیہ پر طالبان کے ساتھ ساز باز کے الزامات لگاتے ہیں جبکہ برطانیہ امریکیوں کے بارے میں شاکی ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغان حکومت کے عہدیدار کہتے پھرتے ہیں کہ خود امریکی اور فرنگی ‘ افغانستان میں امن نہیں چاہتے ۔
      
       ہم نے اگر حامد کرزئی کی حکومت کو مستحکم کرنے میں کماحقہ حصہ نہیں ڈالا تو آپ لوگوں نے توبھی اسے غیرمستحکم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ حامد کرزئی کی حکومت اور اداروں کو سپورٹ کرنے کی بجائے تم لوگوں نے افغان قیادت کو تقسیم کررکھا ہے ۔ ترکی رشید دوستم کو سپورٹ کررہا ہے ۔جرمنی رنگین داد فرسپانتا کا سرپرست ہے ۔
      
       آپ لوگ کبھی عبداللہ عبداللہ اور کبھی کسی وارلارڈز کو پالتے رہتے ہیں ۔ نیٹو کی سپلائی کے ٹرک پاکستان سے بھی گزرتا ہے لیکن یہاں اس کے بدلے میں آپ کو طالبان کو بھتہ دینا پڑتا ہے اور نہ پاکستانی حکومت ایسا کرتی ہے جبکہ اس کے برعکس چمن بارڈر سے کابل تک جانے والے ہر ٹرک کے عوض ایساف کے حکام طالبان کو دو ہزار ڈالر بھتہ دیتے ہیں ۔ یہ بھتہ ایک عرصے سے باقاعدہ قانونی ٹیکس کی شکل اختیار کر گیا ہے اور میدان وردگ صوبے میں طالبان کو باقاعدہ طور پر اس بنیاد پر ادائیگی ہوتی ہے کہ وہ ان ٹرکوں کو اپنے علاقوں سے گزرنے دیں گے ۔
      
       اس وقت یہ طالبان کی آمدنی کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ یوں طالبان کو سب سے زیادہ مالی سپورٹ آپ کی طرف سے ملتی ہے ۔ اسی طرح افغان مزاحمت کار اگر منشیات کی رقم سے استفادہ کررہے ہیں تو افغانستان میں افیون کی کاشت کو روکنا یا اسے تلف کرنا ہمارا نہیں آپ کا کام تھا۔ اسی طرح طالبان جو اسلحہ استعمال کررہے ہیں ‘ وہ امریکی‘ روسی یا پھر ایرانی ساختہ ہے اور ایک بھی چیز پاکستان کی بنی ہوئی نہیں ہے ۔ یوں طالبان کے سپورٹ کا سہرا ہم سے زیادہ آپ کے سر ہے۔
      
       یہ تو وہ حقائق ہیں جو ہم جیسے لوگوں تک بھی پہنچ جاتے ہیں لیکن پاکستانی انٹیلی جینس ایجنسیوں کے پاس یقینا اس سے کئی گنا زیادہ معلومات ‘ کئی گنا زیادہ شواہد کے ساتھ موجود ہوں گی ۔ سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ‘ برطانیہ اور ہندوستان وغیرہ کی ایجنسیاں اور حکومتیں ہر وہ چیز اپنے میڈیا کو لیک کردیتی ہیں جو پاکستان کے خلاف استعمال ہوسکتی ہو تو ہماری حکومت یا ایجنسیاں ایسا کیوں نہیں کرتیں؟۔
      
       ہماری حکومت اور ایجنسیوں کو اگر ہم جیسے اخبارنویس اچھے نہیں لگتے تو یہاں تو ان کے چہیتے اخبارنویس بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ وہ ان کے ذریعے ہی اس طرح کے حقائق کو لیک کیا کریں تاکہ پاکستانی قوم پر بھی حقائق واضح ہوں اور ڈیوڈ کیمرون جیسے لوگوں کے منہ بند کروانے میں بھی آسانی ہو۔سب حقائق سامنے ہوں اور قومی غیرت جاگ رہی ہوتو بژی آسانی کے ساتھ ہم امریکہ اور برطانیہ کے حکمرانوں کو منہ توڑ جواب دے کر کہہ سکتے ہیں کہ :
      
       ہم وفادار نہیں تو بھی تو دلدار نہیں
 
 
                           
 
 
تازہ ترین 
۔ ایک گزارش جنرل کیانی سے!۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ ن لیگ پر نواز شریف کی گرفت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسن نثار
۔ امریکہ، ہمیشہ سے جارحیت پسند - - - - - اسد مفتی
۔ کرکٹ ہے کوئی مسیحا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ امریکہ ،ہمیشہ سے جارحیت پسند۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسد مفتی
۔ سانحہ لاہور و کوئٹہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی کوششیں
۔ متاثرین کی آبادکاری کا خوش کن نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نصرت مرزا
۔ ہنگامی صورتحال میں بے نقاب ہونے والی خامیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرملیحہ لودھی
۔ اپنے خلاف سازش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلیم صافی
۔ اُمید و نا امیدی - - - - - سحر ہونے تک
 
بین الاقوامی خبریں    
قومی خبریں    
متفرق خبریں    
تارکین وطن خبریں    
کالم    
 
 


 
 
 
 Khabrain International, A Gelinesvei 35, 0657 Oslo - Norway email:editor@khabrain.net