Friday, September 10, 2010 
آرٹیکلز 
بھارت نے امداد دینے کے ایک دن بعد ہی پانی چھوڑ دیا
امداد کیلئے آنیوالی کھجوریں لاہور میں بکنے لگیں
فیس بُک اور غازی علم الدین
حسّاس علاقوں میں اب بھی جگہ جگہ مورچے قائم ہیں
لاہور لاہور اے - - - - منصور مہدی
مزید آرٹیکلز ۔ ۔ ۔












مارگلہ حادثہ، میڈیا اور نااہل حکومتی عہدیدار - - - - محمد ہارون عباس قمر
 
      ائربس A321-231 پرواز 202 کراچی سے شہید بینظیر بھٹو ہوائی اڈہ اسلام آبادجاتے ہوئے اسلام آباد کے شمال میں واقع مارگلہ پہاڑیوں میں گر کے تباہ ہوگئی۔ ملبہ ناصرف مارگلہ پر گرا بلکہ میڈیا بھی اس کی زد میں آگیا۔ ایئر بلو کے حادثے نے یہ ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ 'اعلی ترین حکومتی ذمہ داران' بھی نیم پختہ اطلاعات کو چینلز کی 'بریکنگ نیوز' کی بھوک مٹانے کے لیے فراہم کرسکتے ہیں۔
      
       ایئر بلو کے 'بچ جانے والے پانچ مسافروں' کی افواہ کے لیے میڈیا کو مؤردِ الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ خبر وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ٹی وی چینلز کو دی اور وہ ہسپتال بھی بتا دیا جہاں 'ان زخمیوں' کو طبی امداد کے لیے لے جایا گیا۔ صحافیوں کے علاوہ پریشان حال رشتہ داروں کی بھی دوڑیں لگا دیں۔
      
       میڈیا تو عادی ہے لیکن رشتہ داروں کے ساتھ شاید اس سے بڑا مذاق نہیں ہوسکتا تھا۔پھر بلیک باکس کے ملنے کی خبر بھی میڈیا نے نشر کر دی۔ اس کی وجہ وفاقی وزیر اطلاعات قمر زماں کائرہ تھے جنہوں نے 'کسی باکس' کے مل جانے کو بلیک باکس سمجھ کر میڈیا کو یہ غیرمصدقہ اطلاع منتقل کر دی۔
      
       میڈیا کی یہ اخلاقی و قانونی و سماجی و سیاسی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کوئی بھی خبر نشر کرنے سے پہلے اپنے طور اس کی خوب چھان پھٹک کر لے۔ میڈیا کو اندھا دھند حکومتی شخصیات، غیرملکی میڈیا، اپوزیشن یا کسی بھی شخص کے بیان کو بریکنگ نیوز چلانے سے قبل متعلقہ افراد سے تصدیق کر لینا چاہیے۔
      
       میڈیا کو مورود الزام ٹھہرانا تو بہت آسان ہے کیونکہ بریکنگ نیوز کے چکر میں یہ لڑتے ہوئے لڑکھڑا جاتے ہیں۔ اس سے زیادہ تو حکومتی عہدیدار، سرکاری اہلکار ذمہ دار ہیں۔ سب سے زیادہ باخبر وزرا رحمن ملک اور کائرہ صاحب نے کل جو گل کھلائے وہ سب کے سامنے ہیں۔ میڈیا والوں کو تو ہر کوئی رشد وہدایت کی اور اصلاح کا مشورہ دے سکتا ہے مگر ان وزرا کا کیا کیجیے جو بڑے دھڑلے سے بلکہ سینہ ٹھونک کر جھوٹے بیان داغتے ہیں اور پھر چند ساعتوں کے بعد یکسر مختلف موقف لیکر سامنے آجاتے ہیں۔
      
      
       میڈیا آج کل اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ کوئی بھی خبر لمحوں میں دنیا میں پھیل جاتی ہے۔ اس کا اثر بھی اتنا ہی جلد ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال امریکہ میں ایک اہم عہدہ دار کی پرخاستگی فاکس نیوز کی ایک غلط خبر بنی اور بعد میں حکومت کو اپنے کئے پر معافی مانگنی پڑی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ میڈیا اور حکومت کے ذمہ داران کو ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہئے کیونکہ دونوں کا عمل دور رس اثرات کا حامل ہے۔
      
      
       بہرحال میڈیا پر صدفیصد اعتبار کرنا بہت بڑی غلطی ہے کیونکہ اس نے تو اپنی خبر بیچنی ہوتی اور اس جلد بازی میں اس کے پاس خبر کو پرکھنے کا وقت ہی نہیں ہوتا- مگر کم از کم حکومت کے ایک ذمہ دار وزیر کو تو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ یہ تو کوئی دلیل نہ ہوئی کیونکہ وہ ایک سیاسی شخصیت ہے تو جو مرضی غلط صحیح کہتا جائے۔ عوام کے دیئے عہدے کی کچھ ذمہ داریاں بھی تو ہوتی ہیں۔
      
       پاکستانی تاریخ کی نااہل حکومت نے بڑی صفائی سے اس افسوسناک واقعہ کا ملبہ میڈیا پر ڈال دیا ہے، جبکہ میڈیا نے تو وہی کہا اور دکھایا جو نالائقوں کی فوج بڑھ چڑھ کر کہہ رہی تھی۔ یہ میڈیا کا احسان ہے کہ اس نے ایسے چند سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی زیادہ کوشش ہی نہیں کی، جو عام آدمی کے ذہن میں کلبلا رہے ہیں- مثلاً کیا جہاز گرا ہے، گرایا گیا ہے یا پہاڑی سے ٹکرایا ہے؟ یاد رہے کہ تینوں میں زمین آسمان کا فرق ہے-
      
       اب تک بلیک باکس کیوں نہیں ملا- جبکہ بلیک باکس میں سے نکلنے والے سگنل سے اسے منٹوں میں تلاش کیا جا سکتا ہے-
      
       جہاز، نو فلائی زون کی طرف کیوں آیا، جبکہ اس کا انتہائی تجربہ کار کپتان اس بات کو اچھی طرح جانتا تھا-
      
       اگر جہاز کا رخ نو فلائی زون کی طرف ہوگیا تھا، تو سیکیورٹی کے ذمہ داروں نے کیا کاروائی کی- اگر کاروائی نہیں کی، تو کیوں نہیں کی؟
      
       رحمان ملک اور کائرہ صاحب کی جھوٹ بول بول کر، کنفیوژن پھیلانے کی ڈیوٹی کس نے لگائی؟
      
       اور اب سارا ملبہ میڈیا پر اس لئے تو نہیں ڈالا جا رہا کہ وہ قوم کی نفرت سے ڈر کر اصل حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے-
      
       ان سب سے بڑھ کر مجھے سیکرٹری اطلاعات کا یہ بیان حیرت انگیز لگا کہ میں نے، وزیراعظم یا صدر صاحب نے تو کوئی غلطی نہیں کہ کچھ چھپائیں۔ جن کی غلطی ہے ان کو ہم سامنے لاکر سزادیں گے یعنی اگر صدر، وزیر اعظم یا وزیر کوئی جرم یا غلطی کریں گے حکومت اس کو جرم کو چھپائے گی لیکن کو ئی عام آدمی غلطی کرے گا تو پھر اسے ضرور سزا ملنی چاہیے۔
      
       یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس نئی نئی آزادی کے لئے ازخود میڈیا ضابطہ اخلاق طے کرے تاکہ غلط اور غیر ضروری اطلاعات کے مضمرات کا سدباب ہوسکے۔ میڈیا ایک طاقتور اطلاعات کا ذریعہ ہے اسے وہی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس حادثہ سے متعلق بلا تصدیق اطلاعات کی ترسیل کرنے والوں کا محاصبہ بھی ضروری ہے۔ اس عمل سے میڈیا کو سبق بھی ملنا چاہیئے۔
      
       ان کی رپورٹنگ پر لوگ تجزیے بھی کرتے ہیں جس کی بنیاد پر مسائل الجھ بھی جاتے ہیں۔ اصل صحافت زرد صحافت کا رخ اختیار کر جاتی ہے۔ وزیر موصوف کو بھی بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذمہ دارانہ بیان دینا چاہیئے وہ حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے پر ایک بڑی تعداد غم میں مبتلا ہے۔ ایسی گھڑی میں لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھا جاتا ہے نہ کہ انہیں کوفت میں مبتلا کر دیا جائے۔
 
 
                           
 
 
تازہ ترین 
۔ ایک گزارش جنرل کیانی سے!۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ ن لیگ پر نواز شریف کی گرفت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسن نثار
۔ امریکہ، ہمیشہ سے جارحیت پسند - - - - - اسد مفتی
۔ کرکٹ ہے کوئی مسیحا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ امریکہ ،ہمیشہ سے جارحیت پسند۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسد مفتی
۔ سانحہ لاہور و کوئٹہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی کوششیں
۔ متاثرین کی آبادکاری کا خوش کن نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نصرت مرزا
۔ ہنگامی صورتحال میں بے نقاب ہونے والی خامیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرملیحہ لودھی
۔ اپنے خلاف سازش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلیم صافی
۔ اُمید و نا امیدی - - - - - سحر ہونے تک
 
بین الاقوامی خبریں    
قومی خبریں    
متفرق خبریں    
تارکین وطن خبریں    
کالم    
 
 


 
 
 
 Khabrain International, A Gelinesvei 35, 0657 Oslo - Norway email:editor@khabrain.net