Friday, September 10, 2010 
آرٹیکلز 
بھارت نے امداد دینے کے ایک دن بعد ہی پانی چھوڑ دیا
امداد کیلئے آنیوالی کھجوریں لاہور میں بکنے لگیں
فیس بُک اور غازی علم الدین
حسّاس علاقوں میں اب بھی جگہ جگہ مورچے قائم ہیں
لاہور لاہور اے - - - - منصور مہدی
مزید آرٹیکلز ۔ ۔ ۔












ترکی: سوپ اوپیرا کے شائقین اور مذہبی شخصیات کا اکٹھ
 
 
      گذشتہ موسم گرما میں نوجوان مردوں اور خواتین کے بھرے ہوئے طیارے ترکی پہنچے تھے۔ یہ تمام کے تمام لوگ ترک ڈرامے''نور''کے ناظرین و شائقین تھے۔ یہ ڈراما عربی زبان میں ڈب کر کے العربیہ ٹی وی پرپیش کیا گیا تھا جس کے بعد عرب سیاحوں کی ریکارڈ تعداد ''نور'' کی سرزمین پر چھٹیاں گزارنے کے لیے گئی تھی۔
      
       اس موسم گرما میں مبلغین، امام اور مذہبی شخصیات ترکی کا رُخ کر رہی ہیں۔ مبلغین ٹیلی وژن کی سکرینوں پر نمودار ہو کر ناظرین سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ترکی کی حمایت کریں اور اپنی گرما کی چھٹیاں ترکی میں گزارنے کے لیے آئیں۔
      
       چنانچہ اس موسم گرما میں ڈرامے کے شائقین اور مذہبی لوگ غیر معمولی طور پر ترکی کے لیے محبت کا اظہار کر رہے ہیں جو ان دونوں کے اکٹھ کے لیے ایک مشترکہ مقام بن چکا ہے جبکہ اس سے پہلے یہ ملک ان دونوں گروپوں کے درمیان تنازعے کا ذریعہ ہوتا تھا۔
      
       ایسا گذشتہ سال ائمہ کے ترکی پر حملوں کے بعد ہوا ہے۔ انہوں نے ترک ڈراموں کو شرمناک قرار دیا تھا اور عرب عوام سے ان کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ لیکن اس مرتبہ ترکی کی ہر کوئی تحسین کر رہا ہے اور ایسا ترکی میں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔
      
       کیا عربوں کی ترکوں کے لیے ۔۔۔۔۔تنازعاتی وجوہ کی بنا پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔غیر متوقع محبت ایک نعمت ہے یا زحمت؟ یہ کہا جا رہا ہے کہ ترکی کے اسرائیل کے خلاف موقف کی وجہ سے اس کے لیے عام عربوں کی حمایت سے اعتدال پسند عرب کیمپ ناراض ہوا ہے۔ تاہم حقیقت میں ایسا نہیں اور ترکی ایک ایسا مناسب ماڈل ضرور ہے جس کا مطالعہ کیا جانا چاہیے اور جس کی عربوں کو پیروی کرنی چاہیے۔
      
       ترکی یقینی طور پر ایران نہیں ہے اور وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کی اسلامی جڑیں رکھنے والی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی حماس یا اخوان المسلمون نہیں۔ ترک سلفی یا شیعہ نہیں نہ وہ برقع یا پگڑیاں اوڑھتے ہیں۔ ترکی میں اعلیٰ درجے کا لبرل ازم پایا جاتا ہے جو عرب دنیا سے کئی عشرے آگے ہے۔
      
       اگرچہ انتہا پسند آج کے ترکی سے خوش ہیں لیکن یہ امید کی جانی چاہیے کہ وہ ترکوں سے کچھ نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ اس وقت انتہا پسندوں نے ترکی کے لبرل ازم اور سیاسی سیکولر ازم سے آنکھیں موند رکھی ہیں یا وہ انہیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ البتہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان کا ترکی کے بارے میں موقف عارضی اور انتخابی ہے۔ وہ ترکی کی انجمن ہلال احمر کے پرچم بلند کر رہے ہیں کیونکہ انقرہ نے اسرائیل کے خلاف ایک دلیرانہ موقف اختیار کیا ہے اور یہ انتہا پسندلوگ ترکی کی مثال دے کر عرب حکومتوں کو شرم دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر انہیں اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ اسرائیل کے ساتھ کیا ہوتا ہے لیکن وہ اپنی ہی حکومتوں کی سُبکی کرنا چاہتے ہیں۔
      
       ہمارے خطے میں مسلسل مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں اور جو لوگ مظاہرے کر رہے یا شکایات کر رہے ہیں، وہ حزب اللہ کے رہ نما حسن نصراللہ، ایرانی صدر محمود احمدی نژاد، القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کی تصاویر اس وقت تک اٹھانے پر مجبور ہیں جب تک اسرائیل کے ساتھ خاص طور پر اور مغرب کے ساتھ بالعموم ان شخصیات کی محاذ آرائی کی ناکامی کی صورت میں ان کی مقبولیت ماند نہیں پڑ جاتی۔ اب ترکی کی حمایت کی جا رہی ہے اور یہ زیادہ حوصلہ افزا نظر آتی ہے کیونکہ ترکی خطے کے دیگر تمام ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ سیاسی طور پراعتدال پسند، سائنسی طور پر ترقی یافتہ اور لبرل ملک ہے۔
      
       ایک عام عرب شہری کو ایک ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جس کی وہ پیروی اور تقلید کر سکے۔ عرب مسلسل ایک ہیرو کی تلاش میں ہیں اور آج ہم نے ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوان کو ہیرو کے درجے پر فائز کر دیا ہے۔ ایک عرب ہیرو کی تلاش مستقل عرب خاصہ ہے لیکن یہ ایک ایسی چیز ہے کہ ہر کوئی ایسا کر سکتا ہے۔
      
       سرحدوں سے ماورا ایران سے افغانستان اور ترکی تک اپنے لیے ہیروز کی تلاش کے عمل میں عربوں کو معاف کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو گذشتہ عشروں میں احساس شکست کی بنا پر ان پر مسلط کر دی گئی ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ تنازعے کے تناظر میں یہ احساس زیادہ شدت کے ساتھ پایا جاتا ہے۔عربوں کو 1947ء اور 1948ء میں اسرائیل سے، 1956ء میں نہر سویز کے تنازعے پر جنگ، 1967ء میں اسرائیل کے ساتھ جنگ اور 1973ء میں یوم کپور پر ہوئی جنگ میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ یہاں پناہ گزین کیمپوں میں گذشتہ نصف صدی سے زیادہ عرصہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے والے مہاجرین اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں سے انسانیت سوز سلوک کا حوالہ دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔
      
       عربوں کو بیرونی دنیا سے اپنے لیے ہیروز کی تلاش ہے یا وہ اپنے ماضی کے مردہ ہیروٶں ہی کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کریں، خواہ یہ عراق کے صدام حسین ہوں یا مصر کے مرحوم صدر جمال عبدالناصر ہوں۔ان کی لغزشیں معاف کر دیجیے لیکن انہوں نے دشمن کے ساتھ محاذ آرائی کے وقت آتش فشانی موقف اپنایا اور تحکمانہ انداز اختیار کیا تھا۔
      
       تاہم مجھے توقع ہے کہ ترکی اب ہمارا ماڈل بن جائے گا اور ایسا صرف اسرائیل کے ساتھ مقابلے ہی کے لیے نہیں ہو گا بلکہ ماضی کی ماضی کے ساتھ مصالحت کے لیے بھی ہو گا کیونکہ ترکی عثمانیہ سلطنت کے زوال کے بعد سےاور ایک نئی دنیا میں داخل ہونے کے لیے ایک طویل تجربے سے گزرا ہے۔
 
 
                           
 
 
تازہ ترین 
۔ ایک گزارش جنرل کیانی سے!۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ ن لیگ پر نواز شریف کی گرفت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسن نثار
۔ امریکہ، ہمیشہ سے جارحیت پسند - - - - - اسد مفتی
۔ کرکٹ ہے کوئی مسیحا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ امریکہ ،ہمیشہ سے جارحیت پسند۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسد مفتی
۔ سانحہ لاہور و کوئٹہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی کوششیں
۔ متاثرین کی آبادکاری کا خوش کن نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نصرت مرزا
۔ ہنگامی صورتحال میں بے نقاب ہونے والی خامیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرملیحہ لودھی
۔ اپنے خلاف سازش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلیم صافی
۔ اُمید و نا امیدی - - - - - سحر ہونے تک
 
بین الاقوامی خبریں    
قومی خبریں    
متفرق خبریں    
تارکین وطن خبریں    
کالم    
 
 


 
 
 
 Khabrain International, A Gelinesvei 35, 0657 Oslo - Norway email:editor@khabrain.net