Friday, September 10, 2010 
آرٹیکلز 
بھارت نے امداد دینے کے ایک دن بعد ہی پانی چھوڑ دیا
امداد کیلئے آنیوالی کھجوریں لاہور میں بکنے لگیں
فیس بُک اور غازی علم الدین
حسّاس علاقوں میں اب بھی جگہ جگہ مورچے قائم ہیں
لاہور لاہور اے - - - - منصور مہدی
مزید آرٹیکلز ۔ ۔ ۔












ایرانی سائنسدان کا اغواء پاکستان کیلئے سبق - - - - اشتیاق بیگ
 
      خانہ کعبہ اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی آرزو ہر مسلمان کے دل میں مچلتی ہے۔ یہ آرزو ایرانی نیوکلیئر سائنسدان شہرام عامری کے دل میں بھی مچل رہی تھی۔ 33 سالہ شہرام تابکاری آئسوٹوپ میں مہارت رکھتا تھا اور ایران کے ایٹمی پروگرام سے منسلک تھا۔ 2009ء میں اللہ نے اس کی سنی اور اسے اللہ کے گھر سے بلاوا آیا اور اس فریضے کی ادائیگی کے لئے سعودی عرب روانہ ہوا۔ سعودی عرب کے شہر جدہ کے ایئرپورٹ سے باہر نکل کر مکہ جانے کے لئے وہ ایک ٹیکسی میں سوار ہوا اور تھوڑی دیر بعد اسے ہوش نہ رہا۔ یہاں سے اس کی بدقسمتی کا آغاز ہوا جب اسے ہوش آیا تو وہ مکہ کے بجائے سعودی عرب میں موجود ایک امریکی اڈے پر تھا۔
      
       بعد میں اسے امریکی اڈے سے ایک طیارے کے ذریعے امریکہ لے جایا گیا۔اس کا انکشاف ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے ایک پریس کانفرنس میں کیا اور کہا کہ ایران کے پاس اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ اس کے سائنسدان کو امریکہ نے سعودی عرب سے اغوا کرلیا ہے۔
      
       ڈرامے کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب گزشتہ ہفتے ایرانی سائنسدان واشنگٹن میں واقع پاکستانی سفارتخانہ میں نمودار ہواچونکہ امریکہ کے ساتھ ایران کے سفارتی تعلقات نہیں اس لئے پاکستانی سفارتخانہ امریکہ میں ایرانی مفادات کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ پاکستان نے اس ایرانی سائنسدان کو اپنی تحویل میں لے کر ایران منتقل کردیا۔ایران پہنچتے ہی شہرام عامری نے پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا کہ اسے امریکی سی آئی اے نے اغواء کیا اور بعد میں اسے امریکہ لایا گیاجہاں اس پر ایرانی ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے تشدد اور دباؤ ڈالا گیا۔
      
       امریکیوں نے اسے ایٹمی راز کی معلومات کے عوض 50 لاکھ ڈالر کی پیشکش بھی کی تھی جو اس نے ٹھکرا دی۔اس نے بتایا کہ کچھ دنوں پہلے کسی طرح وہ امریکی سیکورٹی اہلکاروں کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا اور پاکستانی سفارتخانے میں پناہ حاصل کی لیکن امریکہ کا یہ موقف تھا کہ ایرانی سائنسدان اپنی مرضی سے امریکہ آیا تھا جہاں اس نے 50 لاکھ ڈالر کے عوض امریکی انتظامیہ کو ایران کے ایٹمی پروگرام کے متعلق اہم معلومات فراہم کیں اور اپنی مرضی سے ہی وہ واپس جارہا ہے، امریکہ کا اس کے اغواء میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔
      
       ایرانی سائنسدان کی اس طرح ڈرامائی انداز میں اچانک نموداری نے ایک اور شک کو جنم دیا کہ معلومات حاصل کرنے کے بعد امریکیوں کو ایرانی سائنسدان کی مزید ضرورت نہیں رہی اس لئے اسے چھوڑ دیا گیا۔وہ شاید ایران واپس نہ جاتا اگر اس کی بیوی بچوں کو ایرانی حکومت امریکہ جانے کی اجازت دے دیتی جو اس کے خاندان کو نہ ملی۔ اس طرح ایک طرف ایرانی حکومت اپنے اس سائنسدان کے اغواء میں سعودی عرب اور امریکہ کو ملوث کررہی ہے دوسری طرف امریکی یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے امریکہ آیا تھا اور اس نے خود امریکی حکومت کو بغیر کسی دباؤ کے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں معلومات فراہم کیں اور اپنی مرضی سے واپس گیا۔
      
       ایرانی سائنسدان کے اغواء کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے کچھ عرصے قبل بھی ایک ایرانی نیوکلیئر سائنسدان کو اس کی گاڑی میں نصب شدہ بم کے ذریعے اس وقت اڑا دیا گیا جب وہ صبح اپنے گھر سے نکل کر ڈیوٹی پر جانے کے لئے اپنی گاڑی میں سوار ہوا۔ایران نے اپنے اس سائنسدان کی ہلاکت کا ذمہ دار اسرائیلی ایجنسی موساد کو ٹھہرایا تھا۔ایرانی سائنسدان کے اغوا کے متعلق امریکہ اور ایران کا موقف ایک دوسرے سے متضاد ہے اور یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کس کا موقف درست تھا اور اس سارے واقعے میں پاکستان کے لئے ایک سبق پوشیدہ ہے۔ پاکستان کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے متعلق بھی وقتاً فوقتاً اس طرح کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ ان کی زندگی کو را، موساد اور سی آئی اے سے خطرہ ہے۔
      
       ایرانی سائنسدان کا امریکیوں کے ہاتھوں سعودی عرب سے اغواء نئے خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان کے ایٹمی سائنسدان جو نیوکلیئر پروگرام سے وابستہ ہیں کو انہی خطرات کے پیش نظر یورپ اور امریکہ جانے کے لئے حکومت سے اجازت نہیں ملتی۔ ہمارے ایٹمی سائنسدانوں اور وہاں کام کرنے والے ملازمین کو اب بے حد محتاط ہونا ہوگا، ان کے لئے خطرات اب صرف امریکہ اور یورپ کا سفر کرنے میں ہی نہیں بلکہ وہ اب اسلامی ممالک میں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
      
       حکومت پاکستان کو چاہئے کہ ایسے حساس ذمہ داریوں کے حامل لوگوں کے لئے یہ انتظام کرے کہ ایسے افراد کو انفرادی کے بجائے گروپ کی شکل میں حج و عمرے کے لئے بھیجا جائے جہاں پاکستان کا سفارتخانہ انہیں ایئر پورٹ پر ریسیو کرے اور عمرہ اور حج کی ادائیگی کے بعد بحفاظت وطن واپسی کو یقینی بنائے۔ واضح ہو کہ پاکستان کی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی کو انڈیا پر برتری حاصل ہے اور یہ جدید ترین ہونے کے ساتھ ساتھ کم خرچ اور کم وقت میں بہترین نتائج کی حامل ہے جس کا راز حاصل کرنے کے لئے را، موساد اور امریکی سی آئی اے آج بھی بے چین اور موقع کی تلاش میں ہیں۔
 
 
                           
 
 
تازہ ترین 
۔ ایک گزارش جنرل کیانی سے!۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ ن لیگ پر نواز شریف کی گرفت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسن نثار
۔ امریکہ، ہمیشہ سے جارحیت پسند - - - - - اسد مفتی
۔ کرکٹ ہے کوئی مسیحا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
۔ امریکہ ،ہمیشہ سے جارحیت پسند۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسد مفتی
۔ سانحہ لاہور و کوئٹہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی کوششیں
۔ متاثرین کی آبادکاری کا خوش کن نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نصرت مرزا
۔ ہنگامی صورتحال میں بے نقاب ہونے والی خامیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرملیحہ لودھی
۔ اپنے خلاف سازش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلیم صافی
۔ اُمید و نا امیدی - - - - - سحر ہونے تک
 
بین الاقوامی خبریں    
قومی خبریں    
متفرق خبریں    
تارکین وطن خبریں    
کالم    
 
 


 
 
 
 Khabrain International, A Gelinesvei 35, 0657 Oslo - Norway email:editor@khabrain.net