یہ توسیع اور جمہوری حکمرانوں کی مدت ملازمت کا سوال - - - - جرگہ
|
|
|
|
|
|
کیا بات ہے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ذہانت اور تدبر کی؟۔ کاش ہم بھی ان کی طرح کم بولنے اور زیادہ سننے کا سلیقہ جانتے اور ہم بھی ان کی طرح ذہین اور کامیاب انسانوں کی صف میں شمار ہوتے۔ مجھ جیسے زبان یا قلم سے زیادہ کام لینے والے لوگ عموماً عمل کے میدان میں سست واقع ہوتے ہیں جبکہ ان کی توجہ قول نہیں بلکہ عمل پر مرکوز ہے ۔
وہ بولتے کم ہیں اس لئے زیادہ سوچتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کا ہر پتا صحیح وقت پر صحیح جگہ جاکر بیٹھ جاتاہے ۔مجھے ان کے ساتھ چار پانچ نشستوں کا موقع ملا ہے ۔ ہر نشست سے قبل یہ ارادہ باندھ لیتا تھا کہ میں کم بولوں گا اور ان سے زیادہ سننے اور جاننے کی کوشش کروں گا لیکن ہر مرتبہ وہ ماحول ایسا بنادیتے کہ ہم بولتے اور وہ سنتے رہتے۔ یقینا زرداری صاحب کے ساتھ نشستوں میں بھی یہی صورت ہوگی کیونکہ وہ تو ماشاء اللہ ہم سے بھی زیادہ بولنے اور سنانے کے شوقین ہیں۔
ہم جیسے اگر اپنے آپ کو باخبر لوگوں میں شمار کرتے ہیں تو وہ صرف اپنے آپ کو باخبر سمجھتے ہیں اور ہم جیسے اگر عقل مند ہونے کے زعم میں مبتلا ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ دوسری دولت کی طرح عقل کی دولت بھی صرف ان ہی کے حصے میں آئی ہے۔ شاید یہی وجہ سے کہ ہماری طرح ہر معاملے میں زرداری ہار جبکہ کیانی صاحب جیت جاتے ہیں۔ اور کیانی صاحب ایک نہیں‘ دو نہیں بلکہ تین سال کی توسیع اس روش کی تازہ ترین مثال ہے۔
ہماری سیاسی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ وہ مخالف تو کیا حامی بلکہ اپنے جیالوں اور متوالوں کو بھی ساتھ نہیں چلا سکتے۔ زرداری، ناہید خان و صفدر عباسی جیسے جیالوں اور اعتزاز احسن جیسے عالی دماغوں کو ساتھ نہیں چلا سکتے۔ نواز شریف نادان مشیروں میں پھنس کر جاوید ہاشمی جیسے وفادار کی دماغ پر اس قدر بوجھ بن گئے کہ ان کاشریان پھٹ گیا۔
اے این پی کی قیادت سے خان عبدالولی خان کی نشانی بیگم نسیم ولی خان اوردھشت گردوں کے خلاف بھادری کی نئی تاریخ رقم کرنے والے افضل خان لالا نالاں ہیں۔ جو اس سال عمران خان کا نمبرٹو ہوا کرتا ہے، اگلے سال وہ کسی اور جماعت میں نظر آتا ہے۔ لیکن کیانی صاحب کی برداشت اور معاملہ فہمی دیکھ لیجئے کہ وہ سب کے ساتھ چل اور سب کو ساتھ چلا سکتے ہیں۔ مشرف اور جنرل کیانی کی عادتیں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔
رات نو بجے کے بعد مشرف صرف طارق عزیز یا پھر ان جیسوں کی محفل میں ہی بیٹھ سکتا تھا لیکن جنرل کیانی صحافیوں سے ملتے ہیں یا سیاسی شخصیات سے تو ان کے ساتھ ڈنر سے لے کرات گئے تک بیٹھے رہتے ہیں۔ دونوں کی شخصیات اور طور طریقوں میں بعدالمشرقین تھا لیکن مشرف آخری وقت تک ان پر اندھا اعتماد کرتا رہا اور اسی لئے اپنی جانشینی کے لئے اس نے ان کا انتخاب کیا ۔
مشرف کی حکومت میں کیانی صاحب ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے طاقتور ترین منصب پر فائز رہے اور یقینا پالیسی سازی میں ان کا ایک اہم رول تھا لیکن ان کا کمال دیکھئے کہ کسی بھی تنازعہ میں وہ فرنٹ پر نہیں آئے۔ پاکستانی سیاست پر ان کے عبور کا یہ عالم ہے کہ وہ پہلے دن سے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چیف جسٹس کی معزولی کا معاملہ گلے پڑے گا‘ اس لئے وہ نہ صرف اس سے دور رہے بلکہ مشرف کی خواہش کے برعکس بیان حلفی بھی نہیں دیا۔
پھر مسلم لیگ(ن) اور وکلاء کے لانگ مارچ کے موقع پر انہوں نے جو رول ادا کیا، اس کی وجہ سے تو وہ وکلاء حتیٰ کہ مسلم لیگ(ن) والوں کے بھی ہیرو بن گئے اور جب کبھی نون لیگیوں کے سامنے پیپلز پارٹی والے کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں یہ کہہ کر خاموش کردیا جاتا ہے کہ چیف جسٹس تو آرمی چیف کے ٹیلی فون سے بحال ہوئے تھے ۔
جنرل اشفاق پرویز کیانی کا شمار ان آرمی چیفس میں ہوتا ہے جو خاندان کی طاقت سے نہیں بلکہ اپنی محنت‘ کوشش اور صلاحیت سے اس منصب تک پہنچے ہیں۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے پنجوں میں جکڑے ہوئے پاکستان جیسے ملک میں ایک مڈل کلاس شخص کے لئے جنرل بننا کوئی معمولی بات نہیں لیکن وہ صرف جنرل نہیں بلکہ آرمی چیف بھی بنے ۔
وہ بھی تین نہیں بلکہ چھ سال کے لئے ۔ مشرف کے برعکس وہ انتہائی مطالعہ کرنے والے شخص ہیں۔ دیگر جرنیلوں کی طرح صرف انگریزی پریس پر انحصارنہیں کرتے بلکہ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اردو پریس کو بھی عرق ریزی سے چھانتے رہتے ہیں۔ جو کمی رہ جاتی ہے وہ ان کے لئے جنرل اطہرعباس جیسا محنتی اور پڑھاکو ڈی جی آئی ایس پی آر پوری کردیتا ہے (جنرل اطہرعباس جیسے محنتی اور میڈیا فرینڈلی فوجی افسر کو اس منصب پر تعینات کرنا بھی جنرل کیانی کے ذہین ہونے کی علامت ہے)۔
شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستانی سماج اور سیاست کو پاکستان کے معروف سیاسی لیڈروں سے بہتر سمجھتے ہیں۔اسی لئے ہمارے جو سیاستدان قوم سے کھیل رہے ہیں‘ وہ ان کے ہاتھ میں کھیلتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان دعوے اور وعدے تو کرلیتے ہیں لیکن ان کو روبہ عمل لانے کے لئے ماحول نہیں بناتے ۔ اس کے برعکس جنرل اشفاق پرویز کیانی جو کچھ کرناچاہتے ہیں ‘ اس کا اعلان نہیں کرتے لیکن ماحول ایسا بنادیتے ہیں کہ پھر جو کچھ وہ چاہتے ہیں ‘ ہو ہی جاتا ہے ۔
وہ نہ چاہتے تو مشرف کو کوئی بھی رخصت نہیں کرسکتا تھا لیکن جب انہوں نے محسوس کیا کہ وہ ملک اور خود فوج کے لئے بوجھ بن گئے ہیں تو ان کی سرسے دست شفقت یوں خوبصورتی سے ساتھ اٹھا دیا کہ زرداری اور میاں نواز شریف کو انہیں رخصت کرانے میں دیر نہیں لگی۔ ان کو جیل جانے سے بچنا اور گارڈ آف آنرز کے ساتھ باعزت رخصت ہونا، جنرل کیانی کے رول ہی کا مرہون منت تھا لیکن انہوں نے اپنا رول یوں خاموشی سے ادا کیا کہ مشرف بھی ان سے راضی رہے اور ان کے مخالفین بھی ان پر نہیں بلکہ زرداری پر برہم ہیں۔
اسی طرح ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے بے نظیر بھٹو اور مشرف کے مابین ڈیل (جس کے نتیجے میں این آر او کی بنیاد پڑی) کی بنا بھی انہوں نے ڈالی تھی ۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ آرمی چیف کے منصب کے لئے صرف پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کے ہی نہیں بلکہ ان قوتوں کے بھی متفقہ فیورٹ بنے جو اس ڈیل کی متمنی تھیں لیکن اس گندی ڈیل میں بھی انہوں نے اپنا کردار اس انوکھے طریقے سے ادا کیا کہ گند کی ایک چھینٹ بھی ان کے دامن کی طرف نہ آئی اور جب این آراو گالی بن گئی تو زرداری یا زیادہ سے زیادہ پرویز مشرف کے گلے کا ہار بن گئی حالانکہ این آراو کے وقت زرداری منظر سے یکسر آؤٹ تھے۔
صرف اندرونی نہیں بلکہ کیانی صاحب بیرونی محاذ پر بھی بہتر کھیل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ پرویز مشرف کے برعکس انہوں نے کئی مواقع پر امریکیوں کے آگے ناں کردی۔ ابتداء میں جب زرداری صاحب کی حکومت کچھ ْحد سے زیادہ امریکیوں کی تابعداری کرنے لگی اور وہ پاکستان میں بری طرح دھندناتے نظر آنے لگے تو فوج اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس قدر دباؤ ڈالا کہ رحمان ملک کی پولیس بھی ناکوں پر امریکیوں کو روکتی نظر آئی اور میڈیانے بھی بلیک واٹر کا مسئلہ یوں اٹھا دیا کہ جیسے پورے پاکستان پر وہ قابض ہوگیا ہے۔
امریکی پاکستانی رول سے جان چھڑانا چاہتے تھے لیکن کیانی صاحب نے اپنے پتے انہوں نے اس خوبصورتی سے کھیلے کہ اب امریکی کہہ رہے ہیں کہ اچھا ہوگا یا برا ہوگا‘ پاکستان ہی کے ذریعے ہوگا۔امریکیوں نے ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے میں گاجر پکڑ رکھی ہے لیکن معاملہ بہ ہر حال انہوں نے اب بڑی حد تک پاکستان کے سپرد کردیا ہے ۔
اب کمال دیکھئے کہ اس پالیسی کے خدوخال کیانی صاحب کی ٹیم ہی وضع کررہی ہے لیکن امریکی ان سے نہ صرف خوش ہیں بلکہ ان کی موجودگی اپنی جیت کے لئے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف امریکیوں کی خواہش ہی جنرل کیانی صاحب کو توسیع دینے کا موجب بنی ہے ۔ حالات ایسے بنے ہیں یا بنائے گئے ہیں کہ آصف علی زرداری کے پاس کیانی صاحب کو توسیع دینے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھااور یہاں بھی کیانی صاحب کی وہ خوبی کام آئی ہے کہ وہ سب کے ساتھ چل اور سب کو ساتھ چلاسکتے ہیں ۔
کوئی اور جرنیل ہوتا اور ہماری سیاسی قیادت کی یہ حرکتیں ہوتیں تو وہ کب کا براہ راست ٹھکرا چکا ہوتا۔ درمیان میں بہت تناؤ کا عرصہ بھی آیا۔ کیانی صاحب تک وہ تبصرے بھی پہنچتے رہے جو زرداری صاحب نجی محفلوں میں ان سے متعلق کیا کرتے تھے لیکن وہ خاموش بیٹھ کر اپنے پتے کھیلتے رہے۔ اس وقت زرداری کو ڈر لاحق ہوگیا تا کہ اگر انہوں نے دیر کردی تو میاں نواز شریف فوج کے ساتھ ساز باز کرلیں گے۔
ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ میڈیا، جوڈیشری اور میاں نوازشریف کو خاموش کرنے کا راستہ یہی ہے کہ کیانی صاحب کو توسیع دیدی جائے ۔ ان کا خیال تھا کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع، کیانی صاحب کی مدت اقتدار میں توسیع سے ہی مل سکتی ہے ۔ گیلانی کے منہ سے سے نکلنے والے یہ الفاظ کہ ”چاروں بڑے 2013ء تک محفوظ ہوگئے زرداری کی اسی سوچ ہی کو واضح کرتے ہیں۔
زرداری اور گیلانی، جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کی توسیع دے کر خوش ہورہے ہیں کہ ان کے اقتدار کو بھی تین سال کی توسیع مل گئی ہے لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ جواب میں ان کی مدت ملازمت کو توسیع ملتی ہے یا نہیں ؟۔ ہم جیسے بعض تاریک بینوں کا دھیان تو گاہے بگاہے اس طرف بھی چلاجاتا ہے کہ جمہوری حکومت کی مرغی کے پیٹ میں سونے کا یہ آخری انڈہ تھا جو اس نے دے ہی دیا۔
اب شاید زیادہ زیادہ ضروری نہیں رہا۔ دیکھنا یہ ہے کہ سونے کے انڈے دینے والی اس مرغی کو مزید مہلت دی جاتی ہے یا کہ پھر اس کی قربانی کو ترجیح دی جاتی ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آرمی چیف کے دور اقتدار میں یہ توسیع زرداری اور وزیراعظم کے دور ملازمت میں توسیع کا باعث بنتی ہے یا پھر خاکم بدہن ان کے ریٹائرمنٹ کے وقت کو مزید قریب لاتا ہے؟۔ تاریخ کا سبق کچھ اور ہے لیکن پھر بھی ہماری دعا ہے کہ پہلا نتیجہ سامنے آئے۔
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
تازہ ترین
|
|
۔ سیلابی سیاست شروع۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نصرت مرزا
|
|
۔ امریکہ سے بدلہ چکانے کا باوقار طریقہ
|
|
۔ جو چلے تو جاں سے گزر گئے! - - - - محمد امجد چوہدری
|
|
۔ چھ ستمبر: ولولوں اور جذبوں کا دن - - - - - ابن شمسی
|
|
۔ پینسٹھ کی جنگ میں شکست کا اعتراف بھارتی جرنیلوں نے خود کیا
|
|
۔ محترم قاضی صاحب۔ مکرر عرض ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔عرفان صدیقی
|
|
۔ افغانستان سے انخلا۔ مذاکرات واحد راستہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرملیحہ لودھی
|
|
۔ آپ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے خدا کو خوش نہیں کرسکتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسد مفتی
|
|
۔ پاکستان آرمی ایوی ایشن کی تابندہ تاریخ
|
|
۔ بے ادب رکشے
|