امریکہ کے جنگی جرائم کوئی اہم انکشاف نہیں - - - - - نقش خیال
|
|
|
|
|
|
منوں اور ٹنوں کے حساب سے خفیہ دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد امریکہ کے جنگی جرائم کی تفصیلات کا سامنے آنا کوئی اہم انکشاف نہیں۔ گوانتانامو، ابو غریب، بگرام، قلعہ جنگی، تورا بورا، دشت لیلیٰ اور دنیا بھر کے طول و عرض میں بکھری خفیہ عقوبت گاہوں میں بکھری شرمناک کہانیاں کسی بھی ملک و قوم کی رسوائی کے لئے کافی ہیں، بشرطیکہ وہاں احساس کی کوئی چنگاری اور انسانیت کی کوئی رمق موجود ہو۔
امریکہ نے پہلے ہی اہتمام کر رکھا ہے کہ امریکی فوجیوں پر کسی عالمی قانون کا اطلاق نہیں ہو گا اور نہ ہی وہ جنگی جرائم کے لئے کسی عدالت یا کمیشن کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ فلوجہ میں جو کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے، ان کے اثرات آج تک قائم ہیں اور مسخ شدہ چہروں والے بچے پیدا ہو رہے ہیں۔
ہر خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ افغانستان میں کس وسیع پیمانے پر جنگی جرائم کا ارتکاب ہوا اور درندگی کس طرح بے لگام رہی۔ تازہ انکشاف یہ ہے کہ ایک خصوصی خفیہ بلیک بونٹ نمبر 373 افغانستان بھیجی گئی تھی۔ اس ٹاسک فورس کا مقصد کسی قانونی تقاضے کے بغیر ”پکڑو یا مار ڈالو“ تھا۔
2007ء کی ایک اندوہناک کہانی پھر دہرائی گئی ہے، جب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر سے فائرنگ کر کے رائٹرز کے دو صحافیوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ ریکارڈنگ میں ہیلی کاپٹر کا عملہ نعرے لگا رہا ہے۔ ”اچھی نشانہ بازی“۔ اسی واقعے میں اس گاڑی کو بھی چھلنی کر دیا گیا تھا، جو زخمیوں کو اٹھانے آئی اور جس کی فرنٹ سیٹ پر دو معصوم بچے بیٹھے تھے۔
کوئی ان کہانیوں کو جمع کرے تو آنے والی نسلوں کو بھی اندازہ ہو کہ علامہ اقبال نے ”چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر“ کن لوگوں کے لئے کہا تھا۔
لیکن میرے پیش نظر ایک اور پہلو ہے اور وہ یہ کہ ”وکی لیک“ کی طرف سے جاری کی گئی 75 ہزار خفیہ دستاویزات نو سالوں پر محیط افغان جنگ کے حوالے سے ہمارے کس کردار کی نشاندہی کرتی ہیں۔ میں پہلے دن سے اسے ایک بے چہرہ اور بے ننگ و نام جنگ قرار دے رہا ہوں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے خوب غور و فکر کے اور قومی مفادات کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد اس ”کروسیڈ“ میں شمولیت کا فیصلہ نہیں کیا۔ جمہوریت قتل ہو چکی تھی، آئین معطل تھا، پارلیمنٹ موجود نہ تھی، فیصلوں کی زمام کار ایک خود پرست جرنیل کے ہاتھ میں تھی، جسے امریکہ کھلے عام منہ لگانے پر آمادہ نہ تھا۔ کلنٹن کے دورہ پاکستان کے دوران امریکیوں نے دانستہ طور پر اس بے حیاء آمر کو توہین کا نشانہ بنایا۔
ایسے شخص کو جب واشنگٹن سے فون آیا تو اسے اپنے لئے امکانات کے کتنے ہی دریچے کھلتے دکھائی دیے۔ اس نے فون بند کرنے سے پہلے امریکیوں کے سارے مطالبات من و عن تسلیم کر لئے۔ خود امریکی حیرت زدہ رہ گئے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ کم از کم تین مطالبات کسی طور تسلیم نہیں کئے جائیں گے۔
کسی ادارہ جاتی سطح پر اس اقدام کے منفی اور مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا، نہ جوابی مطالبات کا کوئی گوشوارہ مرتب کیا گیا، نہ امریکہ کو لا محدود مراعات دینے کا کوئی معاوضہ طلب کیا گیا، نہ خود فروشی کی کوئی قیمت لگائی گئی۔ ڈکٹیٹر نے پاکستان کا ناموس، پاکستان کی حمیت، پاکستان کی آزادی و خودمختاری، پاکستان کی حاکمیت اعلیٰ اور پاکستان کی سلامتی ایک گھٹڑی میں باندھ کر امریکہ کے حوالے کر دی اور قیمت کے طور پر صرف اتنا مطالبہ کیا کہ مجھے پاکستان کا جائز حکمران مان لو، میرے تسلسل اقتدار کی ضمانت دے دو اور مجھے داخلی صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لئے کھلی چھٹی دے دو۔
یہ تھی مفاہمت کی وہ یادداشت جو اس بے چہرہ جنگ کی اساس بنی۔ مشرف تقریباً سات برس تک اپنی ذات کے بت اور امریکی مفادات کی پرستش کرتا رہا۔ سات برس کے طویل عرصے میں پاک فوج بھی کمر کمر تک اس دلدل میں دھنس گئی اور سول انتظامیہ بھی امریکی اہداف کے کولہو کا بیل بن کے رہ گئی۔ ستم یہ ہوا کہ 2001ء کے ایم او یو کے ساتھ 2007ء کے این آر او کا ضمیمہ نتھی کر دیا گیا۔
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
تازہ ترین
|
|
۔ ایک گزارش جنرل کیانی سے!۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
|
|
۔ ن لیگ پر نواز شریف کی گرفت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حسن نثار
|
|
۔ امریکہ، ہمیشہ سے جارحیت پسند - - - - - اسد مفتی
|
|
۔ کرکٹ ہے کوئی مسیحا؟۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عرفان صدیقی
|
|
۔ امریکہ ،ہمیشہ سے جارحیت پسند۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اسد مفتی
|
|
۔ سانحہ لاہور و کوئٹہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرقہ وارانہ خانہ جنگی کی کوششیں
|
|
۔ متاثرین کی آبادکاری کا خوش کن نظام۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نصرت مرزا
|
|
۔ ہنگامی صورتحال میں بے نقاب ہونے والی خامیاں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرملیحہ لودھی
|
|
۔ اپنے خلاف سازش۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سلیم صافی
|
|
۔ اُمید و نا امیدی - - - - - سحر ہونے تک
|