|
|
تصویرِ ہانگ کانگ - - - - - باپ نہیں بدلوں گا
|
|
|
|

|
|
|
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
یہ سن اسی کی دہائی کے ایک موسم گرما کے جولائی یا اگست کے دنوں کی بات ہے ۔ ایک دیہاتی عورت اپنی بڑی بیٹی اور بیٹے سمیت میرے پاس آئی تھی تاکہ میں اس کے بیٹے کو سمجھاؤں۔ اس عورت کے بیٹے کا مؤقف یہ تھا کہ میں باپ نہیں بدلوں گا۔ دراصل ہوا یوں تھا کہ اسی سال، اس لڑکے نے میٹرک کا امتحان دیا تھا، جب وہ پاس ہوا تھا تولاہور سیکنڈری اینڈ انٹر میڈیٹ ایگزیمنیشن بورڈ کی طرف سے اسے جو سند موصول ہوئی تھی۔ اس سند میں کسی ٹائپ کرنے والے نے اس کے باپ کا نام محمد علی کی بجائے سہواً احمد علی ٹائپ کر دیا تھا۔
جس کلرک نے اس سند کی پڑتال کی ہو گی غالباً وہ بھی سو رہا ہوگا اس لئے وہ سند ولدیت کے نام کی تبدیلی کے ساتھ ہی متعلقہ سکول بھجوا دی گئی تھی ۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر اور اس لڑکے کی کلاس انچارج نے اگرچہ نام کی تبدیلی کو پہلی ہی نظر میں پکڑ لیا تھا مگر پھر بھی انہوں نے لڑکے کو یہی سمجھایا تھا کہ سند میں تمہارا خود کا نام تودرست ہی ہے اور جہاں تک تمہارے باپ کے نام میں محمد کی جگہ پر احمد لکھ دیا گیا ہے اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ محمد اور احمد یہ دونوں ہی ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے نام ہیں اس لئے تم سند لے لو اور اپنی تعلیم جاری رکھو۔
پھر انہوں نے لاتعداد لوگوں کی مثالیں بھی دی تھیں کہ گاؤں اور دیہات میں تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے کہ ایک شخص کا اصل نام تو بشیر محمد ہے مگر اس کا نام ووٹوں کی لسٹ میں بشیر احمد درج ہو جاتا ہے۔ ایک مرد کا نام عبدالغفور ہے مگر لوگ اسے غفور احمد یا غفور محمد کہتے ہیں، ایک شخص کا نام اس کے والدین نے محمد نیک رکھا تھا مگر کلرک بادشاہ نے پیدائش کے رجسٹر میں اس کا نام نیک دین لکھ دیا تھا، ایک لڑکے کو اس کے والدین تو سلیم احمد کہتے ہیں، مگر محلے والے اس کو محمد سلیم پکارتے ہیں۔
یہ اور اسی طرح کی بے شمار مثالیں سننے اور پورے گاؤں کے سمجھانے کے بعد بھی، اس لڑکے کا اصرار یہی تھا کہ بے شک محمد اور احمد ہمارے رب کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ہیں مگر میرے باپ کا اصلی نام محمد علی ہے نہ کہ احمد علی ہے اگر میں اس سند کو قبول کرتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے والد کا نام احمد علی ہے یوں تو میرا باپ ہی بدل جاتا ہے لہٰذا میں تو اپنا باپ نہیں بدلوں گا۔
تھک ہار کر اس کے والدین نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ کسی پڑھے لکھے شہری آدمی کی رائے بھی لے لی جائے ۔ ان لوگوں کے سبھی جاننے والے شہری لوگوں میں سے میں ہی واحد شخص تھا، جو کہ پڑھا لکھا تھا یوں فیصلہ یہی ہوا تھا کہ اس نام کے تنازعہ کو میرے سامنے رکھ کر میرے سے فیصلہ کروالیا جائے۔ وہ عورت اپنے خاوند کے کہنے پر اپنے بیٹے کو میرے پاس لے آئی تھی تاکہ میں ان کی پوری بات سن کر کوئی رائے دوں۔
جو لڑکا اپنے باپ کے نام کے حوالے سے اتنا حسّاس تھا ظاہر ہے کہ وہ کوئی غبی یا بیوقوف لڑکا تو نہ ہوگا۔ وہ لڑکا حقیقتاً ایک ذہین بچہ تھا لہٰذا گفتگو کے آغاز میں ہی وہ لڑکا مجھے پوچھنے لگا تھا۔ ’ ڈاکٹر صاحب آپ کے والد صاحب کا نام کیا ہے ؟ میں نے اسے بتایا تھا کہ میرے والد مرحوم کا نام ڈاکٹر ملک محمد علوی تھا۔ وہ لڑکا برجستہ مجھے پوچھنے لگا ،اگر آپ کی میٹرک کی سند میں ان کا نام ملک محمد کی بجائے ملک احمد ہوتا تو آپ کے دلی جذبات اور احساسات کیا ہوتے؟
اس لڑکے کے اس سوالیہ فقرے سے میں اس لڑکے کی جذباتی کیفیت کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔ ساتھ ہی مجھے یہ احساس بھی ہو گیا تھا کہ یہ دیہاتی لڑکا نہ صرف حساس اور غیرت مند ہے بلکہ دور اندیش بھی ہے اور اگر اس لڑکے کی قسمت نے ساتھ دیا تو ایک نہ ایک دن یہ لڑکا ضرور کچھ نہ کچھ بن کر دکھائے گا لہٰذا میں نے لڑکے کی میٹر ک سند میں اس کے والد کا اصلی نام لکھوانے میں بھرپور مدد دی تھی۔ جب تک میں اپنے پیدائشی قصبے پتوکی میں رہا تھا اورجب کبھی وہ دیہاتی لڑکا میرے پاس آیا کرتا تھا تب میں اس غیور لڑکے کے احترام میں کھڑا ہو جایا کرتا تھا ۔
سن اٹھاسی میں مجھے اپنے خاندان سمیت مکمل طور پر لاہور منتقل ہونا پڑا تھا یوں اس غیرت مند اور حساس لڑکے سے میری ملاقاتیں اپنے اختتام کو پہنچی تھیں۔ پھر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ یہ بات میرے ذہن سے مکمل طور پر محو ہو گئی تھی کہ ایک دیہاتی لڑکا محض اس لئے تڑپ اٹھا تھا کہ میٹرک کی سند میں اس کے باپ کا نام بدلا گیا تھا جس کو وہ حسّاس لڑکا باپ بدلنے کے مترادف قرار دے رہا تھا ۔ مگر جب سے میں ہانگ کانگ آیا ہوں اور پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا ہوں تو مجھے یہ بھولی بسری بات بارہا باریا سینکڑوں مرتبہ یاد آئی ہے ۔
قصہ یوں ہے کہ جب برٹش حکومت کو مکمل طور پریہ یقین ہو گیا تھا کہ اب اسے ہانگ کانگ سے رخصت ہونا ہی پڑے گا، توبرٹش حکومت کے حکم پر ہانگ کانگ کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ ہانگ کانگ کے وہ سبھی باشندے، جن کے پاس ہانگ کانگ کے مستقل رہائشی حقوق ہیں اپنے اور اپنے حقیقی بچوں کے ہانگ کانگ کے مستقل شناختی کارڈ اور بی این او پاسپورٹ بنوا لیں۔ اس حکومتی اعلان کے بعد جن جن لوگوں کو ہانگ کانگ میں مستقل رہائش کے حقوق حاصل تھے، انہوں نے اپنے اپنے لائف پارٹنر اور اولاد کے کاغذات ہانگ کانگ امیگریشن کے پاس جمع کروانے شروع کیے تھے۔
سبھی اقوام کی طرح سے پاکستانیوں نے بھی اپنے متعلقین کے شناختی کارڈ بنوانے کے متعلقہ کاغذات ہانگ کانگ کی امیگریشن کے پاس جمع کروانے شروع کئے تھے، زیادہ تر لوگ تو ایسے ہی تھے، جنہوں نے اپنے کاغذات میں اپنے بیوی بچوں کی تعداد درست لکھی تھی۔ مگر کچھ چالاک اور دھوکے باز قسم کے پاکستانیوں اور نیپالیوں نے اپنے جو دعوے داخل دفتر کرنے شروع کیے تھے ان کاغذات میں انہوں نے ا پنے بچوں کی تعداد اصل سے دوگنی یا تگنی دکھائی تھی۔
یوں انہوں نے اپنے حقیقی بچوں کی آڑ میں اپنے بھتیجے اور بھانجے بھی بلوا لئے تھے، مگر کچھ چالاک لوگ بہت ہی زیادہ سیانے نکلے تھے، انہوں نے اپنے کاغذات میں دو دو اور چار چار بیویاں اورپندرہ یا بیس بچے ظاہر کیے تھے۔ بلکہ ان دنوں ایک لطیفہ بہت ہی مشہور ہوا تھا ۔ پاکستانی پنجاب کے علاقے چھچھ کے ایک شخص نے اپنے کاغذات میں پانچ بیویاں اور بیس بچے شو کیے تھے۔ جب امیگریشن آفیسر نے یہ اعتراض لگا تھا کہ اسلام میں تو ایک مسلم شخص، ایک وقت میں چار سے زائد بیویاں نہیں رکھ سکتا ہے، تو وہ شخص اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے ، اس امیگریشن آفیسر سے جھگڑ پڑا تھا اور امیگریشن آفیسر کے اعتراض کو ’مداخلت فی الدین‘ قرار دیا تھا ۔
یوں ہانگ کانگ کو برطانیہ کی عملداری سے چین کی عمل داری میں واپس کرنے کی مہلت یکم جو لائی انیس سو ستانوے سے قبل تک ہزاروں کی تعداد میں پاکستان سے ایسے لوگ آئے تھے، جنہوں نے اپنے کاغذی باپ کوہانگ کانگ کا کارڈ اور بی این او (برٹش نیشنل اوور سیز) پاسپورٹ حاصل کرنے کے عوض لاکھوں روپے ادا کیے تھے۔
یوں سمجھیں کہ اس عرصے میں بہت سارے پاکستانیوں اور نیپالیوں نے تو اپنا یہی کاروبار بنا لیا تھا۔اس کاروبار سے بہت سارے گھاگ قسم کے پاکستانیوں نے لاکھوں ڈالر کمائے تھے۔
ایک محتَاط اندازے کے مطابق کم و بیش پانچ ہزار پاکستانی ایسے ہیں جو کہ اس دوران کسی دوسرے مرد کی اولاد بن کر ہانگ کانگ آئے تھے اور یہاں کے رہائشی بننے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اگرہم مادہ پرست بن کر سوچیں تو یہ بات نہایت ہی معمولی ہے کہ کسی خوشحال ملک میں رہائش حاصل کرنے کی خاطر کسی ایسے شخص کو کاغذی باپ بنا لیا جائے جو کہ حقیقت میں ہمارا باپ نہیں ہے۔ اگر ہم غیرت مند بن کر سوچیں تو یہ ہمارے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ہم ایک ایسے شخص کو اپنی ماں کا خاوند بنا رہے ہیں جو کہ حقیقت اس کا خاوند نہیں ہے اور نہ ہی ہمارا حقیقی باپ ہے۔ اگر ہم اس دیہاتی لڑکے جیسا حساس ،غیرت مند اور دور اندیش بن کر سوچیں تو بات بہت دور نکل جاتی ہے۔
یہاں ہانگ کانگ کے سبھی سینیئر گورنمنٹ آفیسرز اور پرانے قانون دان اس سارے جھوٹ کو جانتے ہیں جب کبھی صرف چائنیز نسل کے آفیسرز اور پڑھے لکھے چائنیز آپس میں بیٹھے ہوتے ہیں اور اگر کبھی اس موضوع پر بات چھڑ جائے تو ان کی زبانوں سے ایسے ایسے عریاں فقرات نکلتے ہیں کہ اگر ہماری قوم غیرت مند ہو تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرے ۔
اگر ہم ہانگ کانگ کی کل آبادی آٹھ ملین کے مقابلے میں دیکھیں تو پانچ ہزار کی تعداد کوئی بہت بڑی تعداد نہیں ہے اور اگر ہم پاکستان کی کل آبادی اٹھارہ کروڑ کی اوسط نکال کر دیکھیں تو بھی یہ اوسط بہت ہی چھوٹی دکھائی دیتی ہے، مگر جب ہم اس معاملے کو اپنی قومی حمیت اور غیرت کے فریم میں رکھ کر دیکھیں اور پھر سوچیں کہ اس سے ہماری قوم کی ساکھ پر کس قدر تباہ کن اثرات پڑتے ہیں، تو ہم شرم اور خوف کے مارے کانپ جاتے ہیں ۔
اگر ہم اُس حساس ،غیرت مند اور دور اندیش دیہاتی لڑکے کی مانند سوچیں ،تو تب جا کر یہ بات ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ قوموں کی برادری میں ہماری قوم کی عزت کیوں نہیں ہے اور کیوں کر ہم پاکستانی پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہیں؟؟
کیونکہ ہم وہ بے غیرت، بے حمیت اور بے حس قوم ہیں جو کہ صرف پیسے اور دنیاوی مفاد کی خاطر نہ صرف باپ بدل لیتی ہے بلکہ اپنی معصوم بیٹیوں کو بھی ڈالرز کی عوض اپنے دینی دشمنوں کے حوالے کر دیتی ہے ۔
٭ ڈاکٹر عصمت حیات علوی ٭ 22 جولائی۔2010ء ٭
|
|
|
|
Share
|
|
|
|
|
|
|
|
|