Friday, September 10, 2010 
آرٹیکلز 
مچھروں نے بھارتی فوج کو بے بس کردیا
بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کا مجرم امریکی پادری ٹیری جونز
آئین کیمطابق غیر ملکی قومیت والا الطاف حسین پاکستان میں سیاست نہیں کرسکتا
متحدہ انقلاب کے نام پر بڑے خون خرابے کی تیاریوں میں مصروف
برطانوی رپورٹر انٹرویو کیلئے یاسر حمید کو مسلسل بلیک میل کرتا رہا
مزید آرٹیکلز ۔ ۔ ۔












کیا اشرف مروان اسرائیلی جاسوس تھے؟
 

 
      کیا مصر کےقوم پرست صدر جمال عبدالناصر کے داماد ڈاکٹر اشرف مروان اسرائیل کے جاسوس تھے اور آیا تین سال قبل لندن میں فلیٹ کی بالکونی سے گر کر ان کی موت ایک حادثہ تھی یا انہوں نے خود کشی کی تھی یا انہیں بالکونی سے دھکیل کر قتل کیا گیا تھا؟۔ توقع ہے اس کہ مہینے برطانوی تفتیشی جج کی تحقیقات کے نتیجہ میں ان سوالات کا جواب سامنے آ سکے گا۔ کروڑ پتی ڈاکٹر اشرف مروان کی جنہوں نے برطانیہ سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی تھی جمال عبدالناصر کی صاحبزادی مونا جمال سے سنہ 1960ء میں شادی ہوئی تھی۔
      
       جمال عبدالناصر کے انتقال کے بعد ان کے جانیشن صدر انور سادات نے ڈاکٹر اشرف مروان کو اپنا معتمد اعلیٰ مقرر کیا تھا اور بعد میں وہ مصر کی فوجی صنعت کے ادارے کے سربراہ بنائے گئے تھے۔ سنہ 1980ء میں وہ لندن منتقل ہو گئے اور اسلحہ کے بین الاقوامی بیوپاری عدنان خشوگی کے ساتھ اسلحہ کی تجارت کی شراکت کی بدولت جلد کروڑ پتی بن گئے۔ ستمبر 2002ء میں ایک اسرائیلی مؤرخ ابارون بریگمان نے اپنی کتاب میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ ڈاکٹر اشرف مروان قاہرہ میں اسرائیل کے پراسرار جاسوس تھے لیکن مصری حکومت اس بارے میں نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ صدر حسنی مبارک نے ڈاکٹر اشرف مروان کا صدارتی محل میں خیر مقدم کیا تھا، جس کے بعد ان کی شخصیت پراسرار بن گئی۔
      
       اس کے ایک سال بعد ایک انعام یافتہ ممتاز امریکی صحافی ہاورڈ بلوم نے اپنی کتاب میں انکشاف کیا کہ جنرل ایلی زیرو نے، جو 1973ء عرب اسرائیل یوم کپور کی جنگ اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، اس با ت کی تصدیق کی تھی کہ ڈاکٹر اشرف مروان اسرائیل کے لیے جاسوسی کرتے تھے۔ ہاروڈ بلوم کے مطابق 1969ء میں اشرف مروان نے پہلی بار لندن میں اسرائیلی سفارت خانے سے رابطہ قائم کیا تھا اور اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے کی پیشکش کی تھی، لیکن اسرائیلیوں کو شبہ ہوا کہ مصری انٹیلی جنس انہیں"پلانٹ" کرنا چاہتی ہے۔ پھر جب ڈاکٹر مروان نے اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کو مصر کی ایک خفیہ رپورٹ کی پیش کش کی تو انہوں نے ڈاکٹر مروان کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیا اور موساد کے ایجنٹ کے طور پر بھرتی کرلیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ لندن میں موساد کے اہلکاروں سے ایک خفیہ ملاقات کے عوض ڈاکٹر مروان کو 50 ہزار ڈالر ادا کیے جاتے تھے اور چند برسوں کے دوران انہیں ان کی اطلاعات پر 10 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے۔
      
       اکتوبر 1973ء کی یوم کپور جنگ سے دو روز قبل ڈاکٹر مروان نےقاہرہ اپنے اسرائیلی رابطہ کو خبردار کیا کہ مصر، اسرائیل پر 6 اکتوبر کو حملہ کرنے والا ہے۔ اس کے دوسرے روز ڈاکٹرمروان لندن پہنچے اور یہاں اسرائیلی انٹیلی جنس موساد کے سربراہ زوی زمیر سے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ مصر اور شام مل کر اسرائیل پر حملہ کرنے والے ہیں لیکن موساد نے ان اطلاعات کو سچ ماننے سے انکار کر دیا، کیونکہ اپریل 1973ء میں ڈاکٹر مروان نے اسرائیلی انٹیلی جنس کو اطلاع دی تھی کہ مصر 15 کو اسرائیل پر حملہ کرنے والا ہے اور اس اطلاع پر اسرائیل نے مصری حملے سے بچاٶ کے لیے 35 ملین ڈالرخرچ کیے تھے، لیکن اس تاریخ پر حملہ نہیں ہوا اور ڈاکٹر مروان کی اطلاع غلط ثابت ہوئی تھی۔
      
       جنرل ایلی زیرو یوم کپور کی جنگ کے دوران ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، جنہیں یوم کپور کی جنگ کی ناکامی کے اسباب کی تحقیقات کرنے والے کمشن انٹیلی جنس کے سلسلے میں ناکامی کاذمہ دار قرار دیا تھا۔ سنہ 1990ء میں جنرل ایلی زیرو نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے ڈاکٹر اشرف مروان کا نام افشا کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دراصل ڈبل ایجنٹ تھے، جنہوں نے گمراہ کن اطلاعات فراہم کی تھیں جن کی وجہ سے انٹیلی جنس کے سلسلے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ موسادکے سربراہ زومی زمیر جنرل ایلی زیرو پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے موساد کے ایک ایجنٹ کا نام افشا کر کے سنگین جرم کیا ہے اور اس سلسلے میں ان پر مقدمہ چلایا جائے۔
      
       ان دونوں کے درمیان جھگڑا آخر کار عدالت تک پہنچا اور 2007ء کے اوائل میں عدالت نے فیصلہ دیا کہ ڈاکٹر مروان ڈبل ایجنٹ نہیں تھے اور ان پر جنرل ایروزیلی کا الزام غلط ہے۔ اس پورے معاملے میں صدر حسنی مبارک کی طرف سے ڈاکٹر مروان کی خدمات کی تعریف نے سخت پیچیدگی پیدا کر دی۔ صدر مبارک کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مروان نے نہایت اہم اور قیمتی خدمات انجام دی ہیں، جن کی فی الوقت تفصیل نہیں بتائی جا سکتی، البتہ وقت آنے پر اعلان کیا جائے گا۔ صدر مبارک کی اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مروان دراصل مصر کے لیے جاسوسی کرتے تھے اور واقعی وہ ڈبل ایجنٹ تھے۔
      
       ستائیس جون 2007ء ڈاکٹر اشرف مروان لندن میں کارلٹن ہاٶس ٹیرس میں اپنے فلیٹ کے نیچے مردہ پائے گئے تھے۔ اسی علاقہ میں برطانیہ کے وزیر خارجہ کی سرکاری رہائش گاہ اور غیر ملکی نامہ نگاروں کا دفتر اور کلب ہے۔ گو پولیس کو شبہ تھا کہ ڈاکٹر مروان کو قتل کیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی ٹھوس شہادت دستیاب نہ ہوسکی، لہٰذا ان کی ہلاکت کے سبب کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
      
       اب ڈاکٹر مروان کے اہل خانہ نے ایک ممتاز وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں اور لندن کے تحقیقاتی جج کے کو رونر پر زور دیا ہے کہ ان کی ہلاکت کے بارے میں بھرپور تحقیقات کی جائے۔ اس سلسلے میں تحقیقات اس مہینہ شروع ہو گی جسمیں ایک عینی شاہد کی شہادت بھی سماعت ہو گی، جس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت قریبی عمارت کی تیسری منزل کی بالکونی میں کھڑا تھا اور اس نے ڈاکٹر مروان کے نیچے گرنے کے فورا بعد سوٹ میں ملبوس دو افراد کو ڈاکٹر مروان کی بالکونی میں دیکھا تھا، جو نیچے دیکھ رہے تھے اور پھر فورا اندر چلے گئے۔ یہ بھی پراسرار بات ہے کہ ڈاکٹر مروان جب فلیٹ کے نیچے مردہ پائے گئے تو ان کے جوتے غائب تھے۔
      
       ڈاکٹر مروان کی موت کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ ڈاکٹر مروان نے اہارون بریگمان اور ہاورڈ ڈبلیوم کی کتابوں میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام کی بدنامی سے گھبرا کر اپنے فلیٹ کی بالکونی سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہے۔ ایک رائے ہے کہ اسرائیلی موساد کے ایجنٹوں نے انہیں بالکونی سے دھکا دے کر ہلاک کیا ہے، کیونکہ ڈاکٹر اپنی یادداشتیں قلم بند کر رہے تھے اور موساد نہیں چاہتی تھی کہ ان کی جاسوسی اور موساد میں ان کے رابطوں کے راز افشا ہوں۔
      
       غالباً موساد کے ایجنٹ ان کی یادداشتوں کا مسودہ حاصل کرنا چاہتے تھے، اس بارے میں کسی کو علم نہیں کہ وہ مسودہ کہاں ہے۔ ایک رائے یہ ہےکہ مصری انٹیلی جنس نے ان کو ہلاک کیا ہے اور ان سے اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے اور وطن سے غداری کا انتقام لیا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا کہ وہ بالکونی سے نیچے گر پڑے۔ بہرحال لندن کے گورنر کی تحقیقات ہی ان تمام سوالات کے جوا فراہم کر سکے گی اور ڈاکٹر مروان کی شخصیت پر پڑے پردے اٹھ سکیں گے۔
      
       اعتماد ۔ حیدرآباد
 
Share
 
 
 
بین الاقوامی خبریں    
قومی خبریں    
متفرق خبریں    
تارکین وطن خبریں    
کالم    
 
 


 
 
 
 Khabrain International, A Gelinesvei 35, 0657 Oslo - Norway email:editor@khabrain.net