|
|
بش ایک کامیاب - - - - - - - سچ تو یہ ہے۔
|
|
|
|

|
|
|
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
بش چلا گیا ۔جس دن وہ جارہا تھا ،وہ خوش تھا کیونکہ اس نے اپنا ٹاسک پورا کر لیا ہے۔ جس کمیونٹی نے اسے اقتدار کی کرسی تک پہنچایا تھا ،اس کمیونٹی کی بھلائی کے لئے وہ اتنا کچھ کر گیا ہے کہ اگر کسی ایک بھی پاکستانی صدر نے پاکستان کے لئے اتنا کچھ کیا ہوتا تو آج پاکستان اقتصادی طور پر اسرائیل جتنا ہی مضبوط ہوتا ۔
عام لوگ اور عام صحافی بھی بش کے جانے پر خوش ہیں اور اسے ایک ناکام صدر کہتے ہیں ، جبکہ ان سبھی کے برعکس میں بش کو ایک کامیاب ایونجیکل نائٹ کہتا ہوں۔ عام
لوگ بش پر ہنستے ہیں جبکہ میں بش پر ہنسنے والوں پر ہنستا ہوں ۔
جس دن (ویسے اس وقت پاکستان میں رات تھی) اوباما نے قسمیں اٹھائی تھیں اس دن بش کا چہرہ دیکھنے کے لائق تھا، ا س کا چہرہ دمک رہا تھا اوروہ مسکرا رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر کھسیانی ہنسی نہ تھی، جیسی ناکام لوگوں کے چہروں پر ہوتی ہے ،بلکہ ایسی مسکراہٹ تھی ،جیسی مسکراہٹ ہم ڈاکٹر بننے والوں کے چہروں پر گریجویشن کے روز ہوتی ہے اور اس وقت ہم اپنے دل ہی دل میں سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آہا جی اب تو ہماری کمائی کے دن آگئے۔
آپ خود ہی دیکھ لیں کہ امریکہ کا ہر سابقہ صدر وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونے کے بعد لیکچر دے کر اور یاداشتیں لکھ کرلاکھوں ڈالرز کما رہا ہے ۔کارٹر، کلنٹن، بش سینئر اور اب بش جونیئر ۔بش جونیئر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں کمائے گا ۔
آپ نے بھی دیکھا ہی ہوگا کہ جو سٹوڈنٹ امتحان میں ناکام ہو جائے، اول تو وہ اپنے کالج میں ہونے والی گریجویشن کی تقریب میں شرکت ہی نہیں کرتا ہے اگر اسے کسی مجبوری کے تحت گریجویشن میں شریک ہونا پڑے تو وہ مسکراتا ہی نہیں ہے، بلکہ کسی خوشی کی بات اور لطیفے پر بھی اس کا منہ لٹکا ہوا ہوتا ہے۔ مگر اوباما کی تقریب حلف وفاداری کے روز نہ تو بش کا چہرہ کسی ناکام طالب عالم کی طرح سے لٹکا ہوا تھا اور نہ ہی وہ رنجیدہ لگ رہا تھا، بلکہ اس کا چہرہ تو دمک رہا تھا۔
اگر سچ پوچھئے تو؛ چمک رہا تھا ۔کیونکہ بش نے اپنے اقتدار کے آٹھ برسوں کے دوران، جو جو کارنامے سرانجام دیے ہیں ،اگر ان سبھی کارناموں کا حقیقت پسندانہ حساب کیا جائے تو کروسیڈ کی تمام جنگوں پر بھاری پڑتا ہے۔ جو کام رومی صلیبی کئی صدیوں کے طویل ترین عرصے میں سرانجام نہ دے سکے تھے بش اکیلے نے وہ بڑا کام صرف آٹھ سال کے قلیل عرصے میں کرڈالا ،پھر بھی وہ اپنے آپے سے باہر نہیں ہوا ہے ،صرف مسکرا رہا تھا ۔
صرف اس کے آقا اور کنگ میکر ہی یہ جانتے ہیں کہ اس اکیلے نائٹ اور بغیر داڑھی اور بغیر جبے والے پادری نے جو کام کیا ہے اس کی نوعیت ایسی ہے کہ صدیوں کا سفر چند سال میں طے ہو گیا اور گھڑیوں اور کیلنڈروں کوخبر تک نہ ہوئی ۔ وقت اپنی چال کا ایسا رخ بدل گیا ہے کہ مشرق اور مغرب کا وقت آپس میں غلط ملط ہو گیا ہے۔ مغرب والے آقا ہمارے سروں پر آ بیٹھے ہیں ،ہمارے مقامات مقدسہ کو گھیرنے کے بعد اب ہمیں بھی گھیرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
یہ ممبئی کے ہوٹلوں کا ڈرامہ، سمندری ڈاکو (صومالی پائیریٹ) اور میریٹ ہوٹل اسلام آباد ایک ہی سلسلے کی مختلف کڑیاں ہیں، جس کی لمبی زنجیر کا ایک سرا بش کے نو اور گیارہ انگلیوں والے ہاتھ میں تھا تو اس کا دوسرا سرا منموہن نے منموہنِی صورت بنا کر ،چھبیس گنا بڑھا چڑھا کر، نو بار دھرا کر نومبر میں تھام رکھا تھا ،اس لمبی زنجیر کے دونوں سرے آپس میں ملے ہیں اور بحر ہند کے سمندر پر رومی صلیبی اپنے جہازوں پر ہتھیاروں سمیت ،سمندری گذرگاہوں پر اپنا تالا لگانے آئے ہیں ۔
لیجئے؛؛ بش نے جاتے جاتے ہمارے سمندری راستے بھی مسدود کر دیے ہیں خشکی کے راستے تو وہ پہلے ہی گھیر چکا تھا ۔ دسمبر کے مہینے میں بھی بش اپنے ٹاسک میں لگا ہوا تھا جب کہ دوسرے رخصت ہونے والے صدور تو اس مہینے میں اپنا بوریا بسترا باندھا کرتے تھے۔
جنوری کے مہینے میں نئے صدر کا حلف اٹھانے سے قبل ،بش کے اسرائیلی آقاؤں نے، دسمبر میں بش کے زمانے کو جو فائنل ٹچ دیا ہے، اس کے بہت سارے مقاصد ہیں ۔ پہلا تو یہ کہ اسرائیلی جو چاہیں گے وہی کریں گے ،دوسرا یہ کہ اسرائیلی ایک یہودی کے بدلے سو فلسطینی ماریں گے ، جب فلسطینی ختم ہو جائیں گے تو پھر عربوں کی باری ہے اور
عربوں کے بعد ویسے تو یہودی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ دنیا میں یہودیوں کی کل تعداد سوا کروڑ ہے جب کہ میری ایک اطلاع کے مطابق اس وقت دنیا میں یہودیوں کہ اصل تعداد پانچ کروڑ ہے، اب آپ خود ہی حساب لگا لیں کہ اگر ایک یہودی کے بدلے سو مسلم مارے جائیں تو باقی کتنے مسلم بچیں گے؟؟؟
بش کی رخصتی اور نئے امریکن صدر کی آمد؛؛ غزہ کی پٹی پر حملے کی ٹائمنگ اسرائیلیوں نے اس لئے ایڈجسٹ کی تھی، تاکہ وہ نئے آنے والے صدر کے مائنڈ کو سیٹ کر سکیں ۔ یقین کیجئے گا کہ اسرائیل کی پالیسی کبھی بھی نہیں بدلنے والی ہے ۔ وہ ظلم اور زیادتی ،جو کہ پچھلے پچاس ساٹھ سال سے جاری ہے اس میں کوئی کمی نہیں ہونے والی ہے، البتہ زیادتی ہو سکتی ہے ۔زیادتی تو وہ کر ہی رہے ہیں اور ان کو ہاتھ پکڑنے والا نہ اب کوئی ہے اور جس طرح کے مسلم دنیا کے حالات ہیں ، لگتا ہے کہ آئندہ پچاس ساٹھ سال میں بھی اسرائیلیوں کاہاتھ پکڑنے والا ،کوئی نہ ہو گا ۔
بش اوباما کی تقریب حلفِ وفاداری میں اس لئے بھی مسکرا رہا تھا کیونکہ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ مسلم قوم بھی کتنی احمق ہے کہ ایک ایسے شخص سے فلسطین کی آزادی کی امید لگائے بیٹھی ہے جس شخص کو وائٹ ہاؤس کی پہلی ہی بریفنگ میں بتایا جائے گا ،مسٹر پریذیڈنٹ؛؛؛سیکیورٹی آف سٹیٹ آف اسرائیل از آور فرسٹ پریارٹی۔
Mr,President; Security of State of Israel is our first priority.
سٹیٹ آف اسرائیل کی سیکیورٹی کے لئے بش جوجو کارنامے سر انجام دے گیا ہے ،ان کارناموں کو اسرائیلی ہمیشہ یاد رکھیں گے اور تاریخ کی کتب میں بش کا نام بڑے ہی احترام سے رقم کرتے ہوئے یہ ضرور لکھیں گے کہ، باپ( سنئیر بش) نے جو اہم کام شروع کیا تھا ،اس اہم کام کو سپوت (سو پوت ۔سو بیٹے)نے مکمل کیا تھا ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا اسلام کو گھیرنے کے جس کثیر جہتی منصوبے
(ملٹی پرپزاینڈ ملٹی سٹیپMulti-purpose & multi-steps Task )
کا آغاز بش سینئر نے کیا تھا اس ٹاسک کو فائنل ٹچ اس کے بیٹے بش جونیئر نے دسمبر 2008ءمیں سمندروں پر قبضہ کرکے دے دیا ہے ۔
اگر گہری نظر سے تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ بش کا کوئی بھی منصوبہ ناکام نہیں ہوا ہے ۔ اس کا ہر منصوبہ قدم بقدم آگے بڑھا ہے اور وقت مقررہ پر اپنے ہدف سے ٹکرایا ہے۔ نائین الیون کا ڈرامہ رچانے کے لئے صبح پونے نو کا وقت خوامخواہ نہیں چنا گیا تھا ۔ کیونکہ دفاتر کھلنے سے قبل، اس وقت ٹوئین ٹاورز میں صفائی کے عملے اور سیکیورٹی والوں کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا تھا ،دوسرے اس دن یہودیوں کا ایک مذہبی تہوار تھا ، لہٰذا گیارہ ستمبر کو کسی ایک بھی یہودی نے ٹوئین ٹاور میں قدم نہیں رکھنا تھا ،اگر جہازوں کے ٹکرانے کے عمل میں کچھ دیر بھی ہو جاتی تو بھی کسی یہودی کی ہلاکت کا خطرہ لاحق نہ تھا۔
تیسرے ٹوئین ٹاور کے ڈرامے کے بعد افغانستان پر امریکن اور یورپین نے حملہ کرنا ہی کرنا تھا ،خواہ اسامہ کے ساتھ ساتھ ملاعمر بھی اپنی پوری کی پوری کابینہ سمیت گرفتاری پیش کر دیتا ،تو بھی امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنا تھا اور حملے کے بہانے پاکستان کے اہم ہوائی اڈوں پر قبضہ کر لینا تھا ۔ جس بھرپور حملے کی تیاریاں، برسوں اور عشروں سے جاری تھیں، وہ حملہ سو دو سو اشخاص کی گرفتاری کے بعد رک نہیں سکتا تھا ۔ افغانستان پرحملہ ہونا تھا، لہٰذا حملہ ہوا اور اس حملے کی آڑ میں بھارت آہستہ آہستہ ہماری مشرقی سرحد کے ساتھ ساتھ ہماری مغربی سرحد پر بھی آگیا ۔
بش کی اس ٹائمنگ میں سراسر ہمارا ہی نقصان ہوا ہے ،اب انڈیا عملاً ہمارے تینوں طرف موجود ہے۔ سمندر میں ،مشرق میں ،شمال میں اوراب نائین الیون کے بعد مغرب میں، صرف ایرانی باڈر محفوظ ہے، امریکہ اور بھارت وہ بھی محفوظ نہیں رہنے دیں گے۔ بھارت کے ساتھ امریکن صہیونیوں کاتعاون کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ، اب تو کسی بھی باشعور پاکستانی کو کوئی بھی شک وشبہ نہیں رہا ہے کہ امریکن صہیونیو ں نے پاکستان کو مصروف رکھنے کے لئے بھارت کی کھلی اور بھرپور اقتصادی اور فوجی مدد کی ہے۔ نئی امریکن وزیر خارجہَ ہیلری کلنٹن کا لہجہ غمازی کر رہا ہے کہ اوباما کی آٹھ سالہ صدارت کے دوران ایرانی باڈر ہمارے لئے غیر محفوظ کر دیا جائے گا ۔
اب انڈیا ایران سے گیس کی پائپ لائن کی بات کیوں نہیں کرتا ؟؟؟
اس لئے کہ وہ خود ہی یورنیم کے پہاڑوں پر بیٹھ گیا ہے ۔بہت کم لوگ جانتے ہیں، کہ اس وقت انڈیا کے بغیر وردی والے ساڑھے تین لاکھ فوجی افغانستان، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں موجود ہیں اور صہیونیوں کے لئے مختلف طرح کے اہم امور انجام دے رہے ہیں ،یاد رہے کہ یہ ان سات لاکھ فوجیوں کا نصف ہیں جن کو کسی دور میں دس ہزار کشمیری مجاہدین نے کشمیر کی وادیوں میں مصروف کیا ہوا تھا۔ کیا انڈیا ان ایجنٹوں کے اخَراجات اپنے پاس سے دے رہا ہے؟
اسرائیل اور امریکہ اگر یہودی ہیں، تو انڈیا ایک بنیا ہے ۔ان دونوں قوموں کی فطرت ہے چمڑی جائے ،مگر دمڑی نہ جائے ان ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کے اخَراجات بھارت اپنے پلے سے ادا نہیں کر رہا ہے اور نہ ہی اسے یہ رقم امریکہ دے رہا ہے ،بلکہ انڈیا توسراسر نفع میں جا رہا ہے ۔ سبھی جیالوجیکل انجینئریہ جانتے ہیں کہ افغانستان کے پہاڑوں میں یا تو قیمتی پتھر ہیں یا پھر ان میں یورنیم کے ذخائر دفن ہیں۔
تورا بورا کی پہاڑیوں پر کارپٹ بمبارمنٹ کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ زیر زمین معدنیات، زمین کی سطح کے اوپر یا قریب آجائیں۔
بہت سارے عام پاکستانی یہ حقیقت نہیں جانتے کہ امریکہ صہیونیوں کی پراکسی وار لڑ رہا ہے ۔کیا ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں جانتی ہیں کہ افغانستان میں جتنی بھی انڈین کمپنیاں یا آرگنائزیشن کام کر رہی ہیں ،وہ ہیں تو انڈیا میں رجسٹر ،مگر ان سبھی کے ڈانڈے کسی نہ کسی طور اسرائیل سے جا کر ملتے ہیں ۔
ہم میں سے بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت کراچی سمیت سبھی پاکستانی شہروں اور دیگر اہم و حساس مقامات پر بے شمار غیر ملکی ایجنٹ پاکستان اور عالم اسلام کے مفادات کے خلا ف کام کر رہے ہیں ۔زیادہ تربے لچک روئیے والے سول و فوجی افسروں کے روپ میں،کچھ طالبان کے بھیس میں ،بہت سے غیر ملکی امدای اداروں کے کارکنان کے روپ میں ، چند ایک سیاسی کارکن بن کر ،سینکڑوں کی تعداد میں آزاد خیال صحافیوں اور اخباری نمائندوں کا روپ دھار کر، درجنوں کے حساب سے مذہبی جماعتوں میں شامل ہو کر، بعض تنظیموں کے لیڈر بن کر۔ ان سبھی ایجنٹوں کو ممبئی سے کنٹرول کیا جا رہا ہے جس کے پیچھے موساد کا سیل فساد اور را کا سیل سودیس ہیں۔
درحقیقت کراچی پچھلے دو تین عشروں سے دنیا کی سبھی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی جنت بنا ہوا ہے اور ہماری پولیس اور دیگر خفیہ ادروں کو داڑھی والوں کی جامہ تلاشی سے ہی فرصت نہیں ہے ،کیونکہ ان کو حکم دینے والوں نے یہی حکم دے رکھا ہے اور حکم دینے والے بھی کسی بڑے حکم دینے والے کے حکم کے غلام ہیں۔
اگر ہم تفصیل می ںچلے گئے تو بات بہت دور نکل جائے گی اس لئے ہم بش کی طرف واپس آتے ہیں ۔ یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کو حصے بخرے کرنے کا منصوبہ، انڈیا کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے انڈیا کی آزادی کے دن پندرہ اگست سے قبل ہی تیار کر لیا تھا اور جس دن اس نے انڈیا کے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا ، اس روز اس نے پہلا کام یہی کیا تھا کہ پاکستان کو توڑنے کا ایک سیل بنانے کا حکم جاری کیا تھا اور یہ سیل اتنا اہم تھا کہ اس کا پہلا چیف جو کہ ایک معمولی سیکشن آفیسر تھا وہ صرف وزیر اعظم انڈیا کو ڈائریکٹ جوابدہ تھا۔
آج اسی سیل کے تحت سترہ اٹھارہ انٹیلی جینس ایجنسیاں کام کر رہی ہیں۔ ان سب ایجنسیوں کا ٹوٹل سالانہ بجٹ پاکستانی پنجاب کے کل بجٹ سے بھی زیادہ ہے ، اسی طرح سے جارج واکر بش ابھی امریکن ریاست ٹیکسس کا گورنر نہیں بنا تھا کہ اس کو صدرامریکہ بنانے کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں ۔ کیسے کیسے ہتھکنڈے اختیار کرکے اسے کرسی صدارت تک پہنچایا گیا ہے ؟
یہ ایک لمبی داستان ہے ،اس سچی کہانی کی ساری تفصیلات لکھنے کے لئے تو کئی ضخیم کتب درکار ہیں، میں صرف ایک مثال دے کر اپنا مؤقف سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ سبھی الٹے سیدھے حربے آزمانے کے بعد جب صہیونی لابی( پرو اسرائیل امریکن) نے محسوس کیا تھا کہ ڈیموکریٹ امیدوار جان الگور انتخاب جیت جائے گا تو انہوں نے جھرلو سے مدد لی تھی یہاں تک کہ مشکوک ووٹ بھی بش کے کھاتے میں ڈلوائے گئے تھے ،مگر پھر بھی فرق رہ گیا تھا ۔پھر کیا ہوا تھا ؟
تاریخ کے سبھی طالب علم جانتے ہیں کہ امریکن ہسٹری میں پہلی مرتبہ صدارتی تعطل کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی ، اس کے بعد سارے معاملات عدالت سے باہر ہی طے ہو گئے تھے ۔ جناب الگور صاحب پیچھے ہٹ گئے تھے ،ان کو امن کا نوبل پرائز دلوایا گیا تھا۔ یوں صدارت کے عہدے کے لئے بش کی راہ ہموار کی گئی تھی۔
بش کو صدر بنانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو صہیونی اثرو رسوخ میں لایا جائے ،یہ جو اوباما کہہ رہا ہے کہ میں عراق سے امریکن فورسز نکال لوں گا۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ،کیونکہ اگر اس کے رومی النسل یہودی اور ایونجیکل آقا چاہیں گے تو ایسا ہو گا، ورنہ نہیں۔
میری ایک بات نوٹ کر لیں کہ اگر اوباما اپنے الفاظ کے مطابق اگلے اٹھارہ ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ وردی والی فوج نکال بھی لے گا تو بھی امریکن فورسز کسی نہ کسی رنگ روپ میں عراق میں موجود رہیں گی۔ ڈیڑھ لاکھ نہ سہی، ایک لاکھ ہی سہی، چلو؛؛ پچاس ہزار ہی سہی !! امریکن قوم (امریکن صہیونیوں) نے اپنے فوجی کسی خاص مقصد کے لئے مروائے ہیں ،ایسے ہی خواہ مخواہ ریگستان کی کھاد بنانے کے لئے نہیں ۔
اور یہ عراق سے نکالے جانے والے فوجی کہاں جائیں گے ؟؟ امریکہ واپس ؛؛؛ ہرگز نہیں ،اوباما الیکشن جیتنے سے قبل ہی کہہ چکا ہے کہ افغانستان ؛؛؛۔ افغانستان اور عراق کی بات تو چلتی رہے گی، یہ بڑے لمبے موضوع ہیں ،پھر کبھی سہی ! کیونکہ ان دونوں ملکوں میں مظلوم مسلم عوام کی لاشیں گرتی رہیں گی ،ہم کڑھتے رہیں گے ،بش مسکراتا رہے گا اور میں لکھتا رہوں گا ۔
اگر اخبارات میری تحریریں تحریف کے بغیرچھاپتے رہیں گے تو آپ پڑھتے بھی رہیں گے ،فی الحال تو میں آپ کو وہ بات بتانا چاہتا ہوں جو کہ ابھی ہم سب کے ذہنوں میں تازہ ہے ،اگلے ایک سال یاچھ ماہ میں ہم لوگ بھول جائیں گے اور پانچ چھ سال میں زخم کھانے والے بھی بھول ہی جائیں گے یا بھلا دیے جائیں گے ،کیونکہ زیادہ تر متاثرین بوڑھے ہیں وہ بھی اگلے دس بارہ برس میں مر کھپ جائیں گے ،یوں جب بات پرانی ہو جائے گی تو ایک اور فنانشل سونامی آئے گا ، جس طرح سے گذشتہ برس آیا ہے ۔
ہو سکتا ہے کہ دس پندرہ سال کے بعد، اس سال کے نزدیک کوئی اوربڑی قدرتی آفت آ چکی ہو تو اس اقتصادی سانحہ کا نام اس قدرتی آفت کے ہم نام دیا جائے گا۔جیسے زلزلہ سٹاکان (سٹاک مارکیٹ کولیپس) یا زناٹہ ڈالرو( یو ایس ڈالر ٹوٹل ڈیزیسٹر) جیسا کہ گذشتہ برس کے اقصادی بحران کو چھبیس دسمبر سن دو چھ میں بحر ہند میں زیر سمندر آنے والے زلزلے اور طوفان کی مناسبت سے سونامی کہا گیا ہے ۔
جب موجودہ فنانشل سونامی آیا تھا تو یہودیوں کو پہلے سے ہی اس کی خبر تھی۔اگر آپ کو یقین نہیں ہے تو آپ خود ہی پچھلے چھ ماہ کے فنانس سے متعلق اخبارات اور رسائل کو اٹھا کر دیکھ لیں ، کہ جن جن لوگوں کی عمروں اور پشتوں کی کمائی (لائف سیونگز آف ایجز اینڈ جنریشنز) اور جمع پونجی لٹ گئی ہے، ان متاثرہ افراد میں سے ایک بھی فرد یہودی نہیں ہے کیونکہ صہیونیو ں کے بڑوں نے دس برس قبل ہی سب یہودیوں کا سارا سرمایہ ان ڈوبنے والی کمپنیِز سے نکال لیا تھا اور اس سارے سرمائے کو محفوظ مقام پر پہنچا بھی دیا تھا ۔
میرے سبھی معزز قارئین جانتے ہیں کہ نیویارک جو کہ نہ صرف امریکہ ،بلکہ پوری دنیا کا فنانشل کیپٹل ہے، وہاں کی نصف سے زائد فرموں کے ڈائریکٹر یامالک یہودی ہی ہیں ، جو کہ آپ کا، میرااور ہم سب کا پیسہ کنٹرول کرتے ہیں۔ جن سیانے لوگوں کو میری اس بات کا اعتبار نہیں ہے وہ سیانے لوگ ذرایہ تو بتائیں کہ انرون انرجی کمپنی سے لے کر لے من اور میڈ آف تک ڈوبنے والے، ہر ایک بڑے ادارے کا تعلق کسی نہ کسی طرح سے بش فیملی ، ڈک چینی فیملی یا کسی نہ کسی یہودی نام تک کیوں جاتا ہے ؟؟؟
پھر یہ فنانشل سونامی بش کی آٹھ سالہ صدارت کے عین آخرِی چھ ماہ میں کیوں آیا ؟ اسے کہتے ہیں کوریکٹ ٹائمنگ ؛؛؛ اب ہوگا یوں کہ امریکن پریذیڈنٹ اوباماجو کہ بذاتِ خود ایک اچھا آدمی ہے وہ اچھے اقدامات کرے گا ،یوں اس کے آٹھ سالہ دور صدارت( کیونکہ امریکن صہیونی اوباما کو دو ٹرم دینا چاہتے ہیں) میں امریکن اکانومی ترقی کرے گی ۔
ایسے سخت وقت تو یہ بے چارہ شریف آدمی (اوباما) ہی کاٹے گا ، سختیاں برداشت کرے گا ،پھر جب لوگ باگ خوشحال ہو جائیں گے، تو اس وقت کوئی نیا میڈ آف آئے گا (آپ ذرا نام پر غور فرمائیں ، ہو سکتا ہے کہ اس یہودی کا نک نیم میڈ فار ہو وہ مکار،عیار اور چالاک یہودی آئے گا اور ہمارا سار ا سرمایہ لے اڑے گا، پھر ہم ساری عمر سود ہی دیتے رہ جائیں گے ۔
کیا آپ یقین کریں گے کہ اس وقت ،جو لوگ خوشحال لگ رہے ہیں ،وہ خوشحال نہیں ہیں ۔امریکہ ،یورپ اور ایشا ء کے فنانشل ہب میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت دس سے بارہ یا چودہ گھنٹے کام کرنے کے بعد، جو کچھ بھی کماتی ہے، اس کا ساٹھ فیصد سود میں چلا جاتا ہے ،جبکہ اصل زر وہیں کا وہیں کھڑا ہے ۔ یہ بنگلے ، یہ لگژری کاریں ، یہ سب دکھاوے کی چیزیں ، لون لے کر تب خِریدی گئی تھیں، جب سود کا ریٹ سب سے زیادہ تھا۔
اب صورت حال یہ ہے کہ مڈل کلاس اپنے پیٹ کو بھرنے کے لئے اور تن کو ڈھانپنے کے لئے ،ایک دن میں چار گھنٹے کام کرتی ہے ،جب کہ عیاشی اور دکھاوے کی چیزوں کی خرِید پر لگی ہوئی رقم کے سود کی ادائیگی کے لئے آٹھ گھنٹے کام کرتی ہے ۔ جدید دنیا کی، جدید بستیوں میں رہنے والے ، جدید لوگ ایک عذاب مسلسل میں گرفتار ہیں ، کماتے ہم ہیں اور کھاتے یہودی ہیں ۔
امریکن بنکس میں جو رقم پڑی ہوئی ہے، وہ عربوں کے تیل کی نہیں ہے بلکہ ہمارے خون پسینے کی کمائی ہے ، جو کہ ہم دن رات محنت کرکے، اپنے بدن کی چربی پگھلا کر اور اپنے جسم کا تیل بہا کر کماتے ہیں اور چاہنے یا نا چاہنے کے باوجود بھی سود کی صورت میں ادا کر تے ہیں ۔
دنیا کے سبھی بنک ،بالخصوص امریکن بنک یہ واویلا کر رہے ہیں کہ ان کے پاس سرمایہ (لیکویڈیٹی نہیں ہے ۔ ساری دنیا کا پیسہ لٹ گیا ہے ؛ وہ سارا سرمایہ کہاں گیا ہے ؟؟؟ آخِر کسی کی جیب میں تو گیا ہو گا ؛؛ کسی کی کسٹڈی میں تو ہوگا ؛؛ اس خطیر رقم کا کیا بنا؟؟؟ کسی کو کچھ خبر ہے ؟؟؟ اگر میں کہوں کہ وہ ساری رقم جو کہ بلین ،ٹرئیلین ڈالرزہے۔
جسے ہم ہندی کے ہندسے میں کھرب اور سنکھ بھی کہتے ہیں۔ وہ ساری دنیا کے ورکرز (کامیوں۔کمیوں ) کی عمروں اور پشتوں کی کمائی ہے، اس وقت خالص سونے کی سلاخوں کی شکل میں اسرائیل میں کسی محفوظ پڑی ہوئی ہے ۔ اگر میرے کچھ قارئین میری بات نہیں سمجھے تو میں ان کو سمجھاتا ہوں ۔
نیویارک سٹاک ایکسچینج کے ذریعے سے بہت ساری امریکن کمپنیوں نے منی بانڈز کی صورت میں کچھ ڈمی کمپنیوں کے شیئرز ساری دنیا کے خوشحال شہروں میں بنکوں کے ذریعے سے فروخت کئے تھے ۔ عام لوگوں کو تو علم نہ تھا ،مگران خوشحال شہروں کے لوکل اور انٹرنیشنل بنکس کے مالکان، فنڈ مینیجرز اور متعلقہ شعبوں کے سبھی ہیڈ جانتے تھے کہ یہ سبھی امریکن کمپنیاں ڈمی کمپنیاں ہیں، ان سبھی بنک مالکان ،فنڈ مینیجرز اور متعلقہ شعبوں کے ہیڈزکو رشوت کے ذریعے سے خرِیدا گیا تھا۔
انہوں نے پرانے دور کے بوڑھے اور لاعلم لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے ، نیا عملہ بھرتی کیا تھا جو کہ نا تجربہ کار اور نوجوان تھا ،اسی ناتجربہ کار اور نوجوان عملے کے ذریعے سے لاعلم عوام الناس کو جھوٹ بول کر اور فریب دے کر لالچ کے جال میں پھنسایا گیا تھا ۔
امریکہ میں قائم کی جانے والے یہ ڈمی کمپنیاں ایک یا دو دن میں معرض وجود میں نہیں آئی تھیں ۔دراصل چالا ک ،عیار اور مکار یہودیوں نے دنیا کو لوٹنے کے اس مربوط منصوبے کا آغاز آج سے چالیس پچاس سال قبل ہی شروع کر دیا تھا ،جیسا کہ میڈ آف نے کیا تھا ،اس نے ایک انوسٹمنٹ کمپنی بنائی تھی اور انوسٹرز کو بھاری سود کا لالچ دے کر، پھانس لیا تھا، پھر وہ سرمایہ کہیں انویسٹ کرنے کی بجائے بنک میں رکھوا دیا تھا اور اسی میں سے انوسٹر کو بھاری رقم بطور منافع دیتا رہا تھا ،ایسے ہی مزید لوگ پھنستے گئے تھے ۔
یوں پچاس سال کے بعد اس کے پاس ساری دنیا کے ریٹائر ڈ لوگوں کا سرمایہ جمع ہو چکا تھا ،کچھ ایسا ہی عمل لیمن برادرز نے بھی کیا تھا جب ان ڈمی کمپنیوں کے یہودی مالکان و مینیجرز نے تمام تر جعلی شیئرز کے عوض امریکن ڈالرز وصول کر لئے تھے تو اس ساری کی ساری رقم سے خالص سونا خرِیدا گیا تھا ۔ سونے کی یہ مقدار اتنی بڑی تھی کہ، اگر صدر اور نائب صدر صہیونی لابی سے نہ ہوتے تو وہ ضرور بہ ضرور ایکشن لیتے۔
ذرا ٹھہر کر؛؛ آپ تصور کریں کہ وہ سونے کی اینٹیں یا سلاخیں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس میں رکھی جائیں تو وہ عمارت ناکافی ہی رہے گی۔
یہ سارا سونا آہستہ آہستہ خرِیدا گیا تھا اور دھیرے دھیرے کنیٹینرز میں رکھ کر اسرائیل روانہ کیا گیا تھا ۔ کسی ایک شپنگ لائن سے نہیں اور نہ ہی کسی ایک شپنگ کمپنی کے نام سے ، بلکہ فرد واحد کے ناموں سے ۔ یعنی کہ ایک شخص امریکہ سے کنٹینر کو بک کروانے والا تھا، دوسرا شخص اسرائیل میں وصول کرنے والا تھا۔ دلچسپی کی بات تو یہ ہے کہ یہ سارے نام بوگس تھے ،یعنی کہ جو امریکن آج سے برسوں قبل مر کھپ چکے ہیں، انہی کے نام استعمال کئے گئے تھے۔
چونکہ اس سارے عمل میں بہت سارے امریکن حکام بھی شامل تھے اس لئے کسی نے بھی پوچھ گوچھ نہ کی تھی ۔ یہ سب اہتمام اس لئے کیا گیا تھا کہ اگر یہ کام کسی رجسٹرڈ کمپنی یا کمپنیوں کے ذریعے سے کیا جاتا تو ان سبھی کمپنیوں اور ان کے ڈائریکٹرز کے نام سوسال کے بعد بھی ٹریس آؤٹ ہوجاتے، یوں پول کھل جاتا کہ ”سونا کہاں گیا ہے“ ۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت سونے کا ریٹ جدید ہسٹری میں بلندیوں پر ہے اور یوایس ڈالر کا ریٹ پستیوں پر ہے ۔
امریکہ سے یہ سارا سونا غیر قانونی طور پر اسرائیل بھیجا گیا تھا اورکاغذات میں ظاہر یہ کیا گیا تھا کہ کنٹینرز میں استعمال شدہ گھریلو سامان بھیجا جا رہا ہے ۔ سونے سے بھرے ہوئے کنیٹنر میں سونے کی پیٹیوں کو چھپانے کے لئے،یہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا کہ پہلے کنٹینر میں سونے کی پیٹیاں رکھی جاتی تھیں ،پھر کنٹینر کے منہ کے قریب گھریلو سامان ٹھونس دیا جاتا تھا ۔ اس کے بعد متعلقہ کنٹینرکو پرسنل ایفیکٹس کے نام سے بک کروا دیا جاتا تھا ۔
جس طرح سے امریکہ میں کنٹینر کو بک کروانے والا کوئی فرد واحد ظاہر کیا جا تا تھا، ایسے ہی اسرائیل میں بھی ان کنٹینرز کو وصول کرنے والا کوئی فرد واحد ہی ظاہر کیا گیا تھا ۔یہ سارا ڈرامہ محض اس لئے رچا یا گیا تھا کہ اگر کبھی کوئی انٹی صہیونی حکومت امریکہ میں برسر اقتدار آبھی جائے ،تو جن لوگوں نے یہ سارا غیر قانونی عمل کیا ہے ان کے نام کبھی بھی قانون نافذ کرنے والے حکام کے سامنے نہ آسکیں ۔ یوں کوئی بھی اور کبھی بھی یہ ثابت نہ کر سکے کہ بش کے دور صدارت میں ٹنوں کے حساب سے سونے کی سمگلنگ کی گئی تھی ۔
آخِر اتنا سونا اسرائیل کیوں بھیجا گیا ؟؟ وہ اس لئے کہ بش اور ڈک چینی جیسے سبھی صہیونی دجال کی آمد کی تیاریوں مصروف ہیں ۔سبھی صہیونی یہ چاہتے ہیں کہ جب کانا دجال خُروج کرے تووہ اس کی سونے اور سپاہ سے مدد کریںاسی لئے ساری دنیا کے صہیونی اپنا مال وزر، خفیہ طور پر آہستہ آہستہ اسرائیل منتقل کر رہے ہیں ۔درحقیقت سبھی انتہا پسندیہودی اور ایوینجیکل عیسائی اس وقت آرمیگڈون (جنگِ ہرمجرون، ام الحرب، جنگوں کی ماں) کی تیاری میں بڑی سنجیدگی سے لگے ہوئے ہیں اور ہم مسلم عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے ہمارے کانوں میں اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دے رہے ہیں ۔
جب اوباما امریکہ کی سلامتی کی قسمیں کھا رہا تھا تو بش اس لئے مسکرا رہا تھا کہ اسے علم تھا کہ امریکہ کی سلامتی کی قسم کے اندر غیر مرئی الفاظ میں اسرائیل کی سلامتی کی قسم بھی شامل ہے اور اگر اسرائیل محفوظ ہے تو اسرائیل میں اس کے حصے کا سونا بھی محفوظ ہے ، لہٰذا بش اس وقت اپنے حصے کے سونے کو تصور کی آنکھ سے دیکھ کر مسکرائے جا رہا تھا ۔
خادم الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عصمت حیات علوی 13۔جنوری۔2009ء
|
|
|
|
Share
|
|
|
|
|
|
|
|
|