Friday, September 10, 2010 
آرٹیکلز 
مچھروں نے بھارتی فوج کو بے بس کردیا
بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کا مجرم امریکی پادری ٹیری جونز
آئین کیمطابق غیر ملکی قومیت والا الطاف حسین پاکستان میں سیاست نہیں کرسکتا
متحدہ انقلاب کے نام پر بڑے خون خرابے کی تیاریوں میں مصروف
برطانوی رپورٹر انٹرویو کیلئے یاسر حمید کو مسلسل بلیک میل کرتا رہا
مزید آرٹیکلز ۔ ۔ ۔












آئی پی ایل کی اندرونی کہانی اور للت مودی کا سفر نامہ
 

 
      ٓئی پی ایل کے میچوں کی جو حالت ہے، آئی پی ایل سے جڑے تمام واقعات کا وہی حال ہے کہ سب ’کچھ پس پردہ ہوتا ہے۔‘ آئی پی ایل کی ابتدا سے 20دنوں پہلے شرد پواربال ٹھاکرے سے ملنے ان کے گھر جاتے ہیں۔ میڈیا ان دونوں کی ملاقات کا سیاسی مطلب نکالنے میں مصروف ہوجاتی ہے۔ اسے لگتا ہے کہ مہاراشٹر کی سیاست کے یہ دو عظیم سیاست داں آپسی تال میل کے امکانات کی تلاش کے لیے اکٹھا ہوئے ہیں۔ میٹنگ سے باہر نکلنے کے بعد پوار کہتے ہیں کہ میٹنگ کا اصلی مقصد ممبئی میں ہونے والے آئی پی ایل کے میچوں کی سیکورٹی اور انٹرنیٹ ٹیکس پر بات چیت کرنی تھی، لیکن وہ اندر سے کچھ اور ہی کھچڑی بنا کر باہر نکلے تھے۔ ذرائع کے مطابق شرد پوار نے ایک ہزار کروڑ میں سودا طے کیا تھا۔ ویسے یہ بھی سوچنے والی بات ہے کہ جب بھی کرکٹ کی بات ہوتی ہے تو شیوسینا مخالفت میں سامنے آجاتی ہے، لیکن اب شاید آپ کو یہ اندازہ لگ گیا ہو کہ اس سارے شور و غل کے درمیان شیوسینا چپ کیوں ہے۔
      
       آئی پی ایل شروع ہوا اور اس کے ساتھ ہی شروع ہوا کرکٹ کی تاریخ میں سٹے بازی کا سب سے بڑا کھیل۔ تنہا لیڈبروکس میں لگے سٹے کی رقم عالمی کرکٹ کپ میں لگی رقم سے زیادہ ہے۔ ہر دن پانچ ہزار کروڑ روپے کا لین دین ہوتا ہے۔ تمام لین دین امریکی ڈالر میں ہوتا ہے اور پیسوں کو ماریشس، دبئی اور لندن کے محفوظ مقامات پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ کالے دھن کی کارپوریٹ گھرانوں کے راستے سفید بنا کر دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کا اس سے بڑھیا راستہ بھلا اور کیا ہوسکتا ہے۔ لیگ کی شروعات سے ٹھیک 10دن پہلے مودی کے پاس انڈرورلڈ ڈان چھوٹا شکیل کا دھمکی بھرا فون آتا ہے۔ اب مودی بھی کوئی چھوٹے کھلاڑی تو ہیں نہیں، کئی لوگوں سے ان کے خود بھی تعلقات ہیں۔ ہم سنندا پشکر کے الزاموں کی کا بیان پہلے ہی کرچکے ہیں۔ انہیں اطلاعات دینے اور مقابلوں کو فکس کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ بدلے میں جو رقم انہیں ملتی ہے، اس کے بارے میں شاید آپ نے سوچا بھی نہ ہو۔
      
       سٹے باز ہر چیز پر داؤ لگاتے ہیں۔کون سی ٹیم خطاب جیتے گی، یہ تو ہے ہی، لیکن یہاں تو ہر مقابلے کی تقریباًہر گیند پر سٹہ لگا ہے۔ میچ کون جیتے گا، کون سی ٹیم کتنے رن بنائے گی، اور تو اور کون سا کھلاڑی کتنے رن بنائے گا، اس پر بھی سٹہ لگا ہے۔ ہر مقابلے سے انڈر ورلڈ کم سے کم 60-80کروڑ کی کمائی کرتا ہے تو مودی کی جیب میں 15-18کروڑ روپے چپکے سے پہنچ جاتے ہیں۔
      
       اب ان پیسوں کی تقسیم کیسے ہوتی ہے۔ شک کی پہلی سوئی بی سی سی آئی کے افسران اور بورڈ کے 6ممبران کی جانب جاتی ہے۔ تھوڑا اور آگے بڑھیں تو مودی کے ساتھ شرد پوار اور ٹیموں کے پرموٹرس کا نام روشنی میں آیا ہے، لیکن ان سب کے باوجود کھلاڑی کہاں ہیں؟ کیا وہ اس گورکھ دھندے میں شامل نہیں ہیں؟ سٹے بازوں کی باتوں پر یقین کریں تو ویریندر سہواگ، انل کمبلے اور کئی دیگر کھلاڑی پس پردہ رہ کر میچوں کے نتائج کو متاثر کرتے ہیں، لیکن ان کا نام کون لے گا؟ ایسا کبھی نہیں ہوگا کیوں کہ اگر ہو گیا تو سارا سسٹم ہی تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا۔
      
       سٹے بازی کے اس کھیل میں کوئی دودھ سے دھلانہیں ہے، وہ چاہے فلم اسٹار، کرکٹ کھلاڑی، سیاست داں یا پھر کھیل انتظامیہ ہو۔ بالی ووڈ کے نظریہ سے دیکھیں تو اس پورے معاملے پر ایک فلم بنائی جاسکتی ہے، جس کا نام ’حمام میں سب ننگے ہیں‘ ہوگا۔ ہم بات للت مودی کے مستقبل کی کر رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ معاملہ برسراقتدار پارٹی کے ہاتھوں سے بھی نکل چکا ہے۔ وہ بھی کچھ خاص نہیں کرسکتی، لیکن پیسہ ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ ایک مرتبہ پھر پیسوں کا لین دین ہوگا، سیکڑوں ہزاروں کروڑ روپے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ تک کا سفر طے کریںگے اور سارا معاملہ خلط ملط ہوجائے گا۔
      
       آج کرکٹ کی دمک پارلیمنٹ کے اندر بھی سنائی دے رہی ہے۔ وزرا پیسے کما رہے ہیں، آئی پی ایل کمشنر پیسے بنا رہے ہیں، پرانے سے لے کر نئے کھلاڑیوں تک کا بینک اکاؤنٹ ہر مقابلے بعد بڑھتا جا رہا ہے۔ کرکٹ کو اپنا دھرم ماننے والی عوام توصرف خاموش تماشائی بن کر رہ گئی ہے، جب کہ یہ تمام کھیل اس کے پیسوں سے ہی ہو رہا ہے۔ آپ بلاوجہ متفکر نہ ہوں کیوںکہ کرکٹ کے میدان کو گندلا کرنے والے یہ گندے اور خطرناک چہرے کبھی کھل کر سامنے نہیں آئیںگے۔
      
       کہیں یہ چنگاری شاہ رخ کو نہ جلا دے
      
       آئی پی ایل کی آگ اتنی خطرناک شکل اختیار کرلے گی، اس کی کسی کو امید نہیں تھی۔ صرف ایک سوال کے صحیح جواب سے یہ گھوٹالہ آزاد ہندوستان کے سب سے بڑے سیاسی اتھل پتھل کا سبب بن سکتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ شاہ رخ خان کی ٹیم کولکاتا نائٹ رائڈر میں کس کا کتنا پیسہ لگا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ملک کی عوام جاننا چاہتی ہے۔ چوتھی دنیا کے عالمی ذرائع کے مطابق شاہ رخ خان کی ٹیم میں کانگریس کے کئی بڑے لیڈروں اور ایک سابق داغ دار وزیر اعلیٰ کا پیسہ لگا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ کانگریس کے ایک سینئر وزیر نے شاہ رخ خان کی ایک کانگریسی لیڈر سے ملاقات کروائی، جو دس جن پتھ کا قریبی مانا جاتا ہے، ساتھ ہی بی سی سی آئی کا افسر بھی ہے۔ یہی ملاقات شاہ رخ کی گاندھی پریوار کے کافی قریب لے گئی۔ آئی پی ایل کی ٹیم خریدنے کے دوران شاہ رخ خان کو پیسے کی ضرورت پڑی۔ اسی مرکزی وزیر نے شاہ رخ خان کی پھر مدد کی۔ انہوں نے خان کو ایک اور شخص سے ملوایا جس کا نام مدھو کوڑاہے۔
      
       جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ کوڑا کروڑوں روپے کے گھوٹالے کے ملزم ہیں۔ہمارے ذرائع کے مطابق شاہ رخ کی ٹیم کولکاتا نائٹ رائڈرس میں مدھو کوڑا نے بھی پیسے لگائے تھے۔ اس کے علاوہ شاہ رخ کی ٹیم میں مہاراشٹر کے ایک سینئر کانگریسی لیڈر کی حصہ داری بھی موضوع بحث رہی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مرکزی وزیر اور شاہ رخ خان کے درمیان کیا رشتہ ہے؟ وزیر کی بیوی اور سابق اداکارہ ہیں اور وہ شاہ رخ کی بیوی گوری خان کے ساتھ ایک انٹریٹمنٹ اور ایڈواٹائزنگ کمپنی میں پارٹنر ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ آئی پی ایل کی یہ آگ کہاں رکے گی۔ انڈر ورلڈ، بلیک منی، سیاست اور کرکٹ کے اس خلط ملط کا قصہ کہاں ختم ہوگا۔ شاہ رخ خان کی ٹیم میں اور کن کن لوگوں کا پیسہ لگا ہے اور ان پیسوں کے ذرائع کیا ہیں؟ شاہ رخ کی ٹیم اور
       انڈر ورلڈ کے درمیان کا رشتہ کیا ہے؟
      
       مودی کے ٹویٹر سے ابھرے تنازع کا خاتمہ کیا ہوگا۔ اب لوگوں کی نظر شاہ رخ خان پر ٹکی ہے، جس طرح کی خبریں آ رہی ہیں، اس سے یہی لگتا ہے کہ آئی پی ایل کی اس چنگاری سے شاہ رخ بھی نہیں بچ پائیںگے۔ شاہ رخ خان پر انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے ساتھ مل کر آئی پی ایل میں سٹے بازی کا الزام لگ رہا ہے۔ آج جب آئی پی ایل کی ہر ٹیم کے شیئر ہولڈنگ پیٹرن کا تخمینا لگایا جا رہا ہے، تو سب سے سنسنی خیز معاملہ شاہ رخ خان کی کولکاتا نائٹ رائڈرس کا سامنے آرہا ہے۔ اس میں ماریشس بیسٹ نامی کمپنی روشنی میں آئی ہے۔ اس کمپنی کے مالک جے مہتا ہیں۔ جے مہتا شاہ رخ کے پارٹنر ہیں اور فلم اداکارہ جوہی چاؤلہ کے شوہر ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس کمپنی کا پیڈ اپ کیپٹل صرف 100ڈالر تھا، اس میں اچانک 50کروڑ روپے جمع ہوجاتے ہیں۔ راتوں رات یہ کمپنی بڑی بن جاتی ہے۔ معتبر ذرائع کے مطابق یہ پیسہ داؤد کے کسی معاون نے بیٹنگ کے ایڈوانس کی شکل میں دیا تھا۔ تبھی یہ بات بھی روشنی میں آئی کہ کیوں وسیم اکرم کوٹیم کا بالنگ کوچ بنایا گیا، جب کہ کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو آئی پی ایل ٹیم میں نہیں رکھا گیا۔ یہ بات بھی ظاہر ہے کہ آئی سی سی کی رپورٹ کے مطابق وسیم اکرم کے تار انڈر ورلڈ سے جڑے ہیں۔
      
       یہ بات بھی واضح ہے کہ آئی پی ایل کی تمام ٹیموں میں مودی کے سب سے قریبی شاہ رخ خان ہیں۔ جب سنندا پشکر آئی پی ایل میں داؤد ابراہیم کی بات کرتی ہیں تو یہی لگتا ہے کہ ان کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ کس ٹیم میں داؤد کے کتنے پیسے لگے ہیں اور یہ پیسے کس کام کے لیے دیے گئے ہیں۔ آئی پی ایل کی شروعات سے ہی پاکستانی کھلاڑیوں کے سلسلہ میں ہنگامہ ہوتا رہا ہے۔ لیگ کے تیسرے سیزن میں کسی بھی ٹیم نے پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیم میں نہیں لیا، لیکن وسیم اکرم کو شاہ رخ خان کی کولکاتا نائٹ رائڈرس ٹیم کے گیندبازی کوچ بننے پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔ شاہ رخ کو اس کی اجازت کیسے ملی، جب کہ اکرم پر سٹے بازی میں شامل ہونے اور انڈر ورلڈ سے تار جڑے ہونے کے الزام میںکئی مرتبہ لگ چکے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ اکرم کے سلسلہ میں کسی نے آج تک کوئی سوال نہیں کیا۔ شاہ رخ کے چہارجانب مشکوک و شبہات نظر آتے ہیں، لیکن گلیمر کی چادر کے نیچے سب کچھ چھپ جاتا ہے۔ کانگریس پارٹی شاہ رخ کے لیے ہر قانون کو بالائے طاق رکھنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے جب کہ اسے یہ معلوم ہے کہ کنگ خان للت مودی کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔
      
       پچھلے سال کولکاتا نائٹ رائڈرس کی ٹیم مسلسل ہاری تو لوگوں نے اسے کوچ جان بوکانن کی غلط پالیسیوں اور ٹیم میں گروپ بندی کا نتیجہ مانا۔ کچھ حد تک یہ صحیح بھی ہے لیکن سچ یہ بھی ہے کہ اس سے سٹے بازوں کو کافی فائدہ ہوا۔ انہوں نے 100کروڑ روپے سے زیادہ کمائی کی، لیکن اس نے ایک دوسرے شک کو بھی وجودبخشا، شاہ رخ خان اور للت مودی کے مابین رشتے کسی سے چھپے نہیں ہیں اور کوئی اندر جھانک کر دیکھے تو آسانی سے یہ جان سکتا ہے کہ کس طرح شاہ رخ خان کے حامیوں نے ان کی ٹیم کی ہار سے کمائی کی۔ اس میں شک کی سوئی ایک سابق ہندوستانی کپتان پر بھی جاتی ہے جو وسیم اکرم اور ڈیو وہاٹمور کے ساتھ مل کر اسے انجام دیتے ہیں۔ عوام کبھی بھی یہ نہیں جان پائے گی کہ کے کے آر کی ہار کی وجہ کیا رہی، لیکن شک کی یہ چنگاری شاہ رخ خان کو بھی جلا سکتی ہے۔
      
      
       پوری دنیا للت مودی کے جس چہرے کو جانتی ہے، وہ چہرہ نقلی ہے۔ للت مودی کی اصلیت سے ہم پردہ اٹھائیں، اس سے پہلے یہ سوال کرنا ضروری ہے کہ اس تنازع کی شروعات ہونے تک شرد پوار، وجے مالیا، پرفل پٹیل، آئی ایس برندا، فاروق عبداللہ اور شلپا شیٹی آئی پی ایل کی کامیابی کے لیے للت مودی کی پیٹھ تھپتھپا رہے تھے، لیکن مسئلہ گرم ہوتے ہی ان کے سب سے عزیز دوست شاہ رخ خان نے سکوت اختیار کرلی۔ اس پورے تنازع میں شاہ رخ خان کی خاموشی کا راز کیا ہے؟ کیا شاہ رخ خان مودی کے اصلی چہرے سے واقف ہیں یا پھر خودکو اس آگ سے بچانے کے لیے ایک اسٹریٹجک کے تحت کام کر رہے ہیں۔ للت مودی کا اصلی چہرہ یہ ہے کہ وہ آج دنیا کا سب سے بڑا سٹے باز ہے۔ دنیا کی 15سب سے بڑی سٹہ لگانے والی کمپنیوں میں للت مودی کا حصہ ہے۔ مطلب یہ کہ میچ دہلی میں ہو ، لندن میں ہو یا سڈنی میں، جس میچ پر بھی سٹے بازی ہوتی ہے، للت مودی کو فائدہ ہی فائدہ ہوتا ہے۔ سرکار کو اس بات کی تحقیقات کرنی چاہیے کہ اتنا بڑا سٹے باز ہمارے ملک میں کرکٹ کے سب سے بڑے ادارے کا حصہ کیسے بن گیا۔ وہ کون لوگ تھے جنہوں نے للت مودی کو بی سی سی آئی کا افسر بنانے میں مدد کی۔ وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اسے راجستھان کرکٹ ایسو سی ایشن کا صدر بنایا۔
      
       للت مودی کا حال جتنا داغ دار ہے، ان کا ماضی اس سے بھی زیادہ رنگین اور کالے کارناموں سے بھرا پڑا ہے۔ للت مودی معروف صنعت کار اور گاڈفرے فلپ انڈیا کمپنی کے مالک، کے کے مودی کے بیٹے ہیں۔ 15ہزار کروڑ روپے کے کار و بار والی یہ کمپنی فور اسکوائر سگریٹ بناتی ہے۔ مودی بچپن سے ہی ضدی اور بدمزاج تھے۔ انہوں نے کالج کی پڑھائی امریکہ میں کی ہے جہاں وہ کئی غلط عادتوں کے شکار ہوئے۔ مودی ڈیوک یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ اس دوران ہی ان پر ڈرگس کے استعمال کا الزام لگا تھا۔ اس کی وجہ سے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں سزا کے علاوہ جرمانہ بھی بھرنا پڑا تھا۔ امریکہ میں ہوئی بدنامی کے بعد وہ ہندوستان لوٹے۔ ان کے والد نے انہیں گاڈفرے انڈیا کمپنی میں ڈائریکٹر بنادیا، لیکن والد کا ہاتھ بٹانا انہیں پسند نہیں آیا۔ وہ شروع سے ہی کرکٹ اور کھیل کی دنیا کی چکاچوند کے قائل تھے۔ کھیل کی دنیا میں گھسنے کے لیے انہوں نے پیسے کا زور لگایا۔ ٹینس اور کرکٹ ٹورنامنٹوں کے منتظم بنے۔ پھر سابق ہندوستانی وکٹ کیپر نین مونگیا اور چار دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ عہد لیا، جس کے تحت ان کے بلوںپر فور اسکوائر کا لوگو لگا ہوتا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے ہندوستان میں آئی ایس پی این کے تقسیم کی ذمہ داری سنبھالی، لیکن مودی صرف اسی سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ شروع سے ہی یوروپ کے فٹ بال لیگ کی طرز پر ہندوستان میں کرکٹ ٹورنامنٹ کاانعقاد کرنا چاہتے تھے۔
      
       آئی پی ایل جیسے کسی ٹورنامنٹ کا انعقاد کرنا ان کی پرانی خواہش تھی۔ اس کے لیے وہ کرکٹ کے اقتدار کے حصول کے لیے بیتاب تھے۔ ان کی یہ بیتابی 2004میں رنگ لائی، جب وہ راجستھان کرکت ایسو سی ایشن کے صدر بننے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد ان کاانتخاب بی سی سی آئی کے نائب صدر اور مارکیٹنگ کے لیے کیا گیا۔ 2007میں انہیں آئی پی ایل کے انعقاد کے لیے بی سی سی آئی کی منظوری ملی اور انہیں لیگ کے کمشنر کا عہدہ ملا۔
      
       کرکٹ کے کھیل سے پیسہ بنانے میں مودی کی مہارت کی پہلی مثال 2006میں ابو ظہبی میں ہندوستان-پاکستان سیریز کے انعقاد کے دوران نظر آئی۔ اس سیریز کے براڈکاسٹنگ اور مارکڈائزنگ اختیار انہوں نے پہلے سے دوگنے داموں پر فروخت کیے۔ اچانک ہی بی سی سی آئی کی کمائی آسمان چھونے لگی۔ اس کام میں انہیں شرد پوار، آئی ایس برندر، ایم پی پانڈو کے علاوہ سنیل گواسکر اور روی شاستری کا بھر پور تعاون ملا، لیکن کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ آخر اس کا راز کیا ہے۔ پھر اس کے بعد آیا آئی پی ایل اور مودی اس کے سربراہ بنے۔ اس کا مقصد ایک ہی تھا، گلیمر کی چاشنی میں لپیٹ کر کرکٹ کو بازار میں پہنچانا اور اس چکاچوند کے پیچھے سٹے بازی کا بے جوڑ کھیل چلانا۔ فلمی ستارے سے لے کر کارپوریٹ گھرانے اور سیاسی لیڈران بھی آئی پی ایل ایکسپریس میں سوار ہوگئے۔ اس دوران شرد پورار بی سی آئی کے صدر تھے اور مودی کو آئی پی ایل سے متعلق ہر مسئلے میں فیصلہ لینے کی پوری چھوٹ تھی۔ انہوں نے اسی کا فائدہ اٹھایا اور کئی ٹیموں کے شیئر خرید لیے۔
      
       یہ شیئر کہیں بے نام ہے تو کہیں ان کے رشتے داروں کے نام۔ راجستھان رائلس ٹیم میں مودی کے رشتہ دار کے شیئر ہیں تو کنگس الیون پنجاب کی ٹیم سے وہ موہت برمن کے توسط سے جڑے ہیں۔ موہت، للت مودی کے داماد گورو برمن کے بھائی ہیں۔ برمن، مودی اور آئی پی ایل کے رشتے یہیں تک محدود نہیں ہیں۔ برمن آئی پی ایل کے انٹرنیٹ حق سے جڑی ڈیل میں بھی شامل ہیں۔ مودی کے اقتصادی تعلقات ’ورلڈاسپورٹ گروپ‘، ’نمبس‘ اور ’پرسیپٹ‘ کمپنیوں سے بھی ہیں۔ 80کروڑ روپے کی فسیلٹیشن فیس کی ادائیگی کے سلسلہ میں ورلڈ اسپورٹ گروپ کے ساتھ ہوئے سمجھوتہ پر محکمہ انکم ٹیکس کی نظریں لگی ہوئی ہیں، کیوںکہ اس میں ’فیما‘ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی نے لیگ کی ٹیموں میں شیئر خریدنے کے لیے پچھلے راستے کا سہارا لیا۔ بہاماس اور ماریشش جیسی جگہوں پر ایسی بے نامی کمپنیاں بنائی گئیں جن کا پیڈ اپ کیپٹل ان کی سرمایہ کاری سے کم تھی۔ شاہ رخ خان اور راج کندرا کے ساتھ نزدیکی رشتے اس میں معاون بنے۔
      
       مودی صرف آئی پی ایل کی ٹیموں اور ان کے مالکوں سے ہی قریب نہیں ہیں، بلکہ سٹے بازوں سے ملی اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا، پاکستان اور سری لنکائی ٹیموں کے کھلاڑیوں سے بھی ان کے قریبی تعلقات ہیں اور ان ٹیموں تک ان کی براہ راست پہنچ ہے، جس کی وجہ سے وہ میچوں کا نتیجہ متاثر کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لیڈبروکس ہو یا لندن یا پھر دبئی، مودی کے بھروسہ مندسپہ سالاروں کی فوج ان جگہوں پر بیٹھ کر سٹہ لگاتی ہے اور وہ اپنے انڈر ورلڈ کنکشن کی مدد سے کروڑوں کی کمائی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ صرف تین سال میں 30ہزار کروڑ روپے کے مالک بنے مودی کا ماضی اور حال ایسے گورکھ دھندوں سے بھرا پڑا ہے، لیکن تعجب کی بات ہے کہ آج تک کسی نے اس پر انگلی نہیں اٹھائی۔ آئی پی ایل کی گورننگ کونسل میں سابق کھلاڑی سے لے کر سیاسی لیڈران اور ملک کے مشہور وکیل تک شامل ہیں، لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ وہ مودی کی ان کارگزاریوں سے انجان تھے۔ کچھ ممبران کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ کئی بار آئی پی ایل کے ڈیلوں کی پوری اطلاعات بھی انہیں نہیں دی جاتی تھی۔ اگر ایسا ہے تو وہ اتنے دنوں تک خاموش کیوں بیٹھے رہے۔ آج جب ساری دنیا مودی کے پیچھے پڑی ہے، تو اس طرح کے بیان دے کر اپنا دامن بچانے کی کوشش ذمہ داریوں سے فرار نہیں تو اور کیا ہے۔
      
       اگر کوئی مکے باز یا ویٹ لفٹرنادانستگی میں یا پھر کوچ کے جھانسے میں آکر غلطی سے بھی ڈرگس لے لیتا ہے تو اس کھلاڑی پر تاعمر پابندی عائدکردی جاتی ہے۔ میڈل چھین لیے جاتے ہیں۔ بے چارے یہ غریب کھلاڑی انصاف کا مطالبہ کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، لیکن ان کی سنوائی نہیں ہوتی۔ اگر کھیل کا یہی قانون ہے تو یہ کرکٹ پر کیوں نہیں نافذ ہے۔ اب اس مسئلہ کا جواب کون دے گا کہ کیسے ایک ایسے شخص کو آئی پی ایل کا سربراہ بنا دیا گیا، جس پر ڈرگس لینے اور فروخت کرنے کا سنگین الزام لگ چکا ہو اور جس کے لیے اسے سزا بھی مل چکی ہو۔
 
Share
 
 
 
بین الاقوامی خبریں    
قومی خبریں    
متفرق خبریں    
تارکین وطن خبریں    
کالم    
 
 


 
 
 
 Khabrain International, A Gelinesvei 35, 0657 Oslo - Norway email:editor@khabrain.net